نیویارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کی اہلیہ راما دواجی کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
امریکا میں گزشتہ روز تاریخ رقم ہوگئی جب ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم اور بائیں بازو کے میئر منتخب ہوئے، ان کی اہلیہ اگرچہ انتخابی مہم کے دوران منظرِ عام سے دور رہیں لیکن ممدانی کی مہم کی شناخت واضح کرنے اور سوشل میڈیا موجودگی کو مضبوط بنانے میں اُن کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔
نیویارک کی نئی خاتون اول نو منتخب میئر ظہران ممدانی کی اہلیہ کا نام راما دواجی ہے جن کی عمر 28 سال ہے۔
راما دواجی شامی نژاد امریکی آرٹسٹ ہیں جو ٹیکساس میں پلی بڑھیں، انہوں نے دبئی میں تعلیم حاصل کی اور صرف 4 برس قبل وہ نیویارک منتقل ہوئیں اور اب وہ نیویارک سٹی کی تاریخ کی کم عمر ترین فرسٹ لیڈی بن گئی ہیں۔
ظہران ممدانی کی اہلیہ انتخابی مہم کے دوران عوامی تقریبات، مباحثوں اور انتخابی جلسوں سے دور رہی تھیں۔ وہ انٹرویوز سے بھی گریز کرتی رہیں۔
ممدانی کے دوستوں اور حلقوں میں راما دواجی کو غیر معمولی اور متاثر کن شخصیت قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: راما دواجی ممدانی کی کی اہلیہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔