ممبئی ہائیکورٹ نے 14 برس سے قید مسلم شخص کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ممبئی ہائیکورٹ نے کہا کہ کسی بھی ملزم کو مقدمہ چلائے بغیر غیر معینہ مدت تک قید میں رکھنا غیر آئینی ہے اور یہ آئین ہند کے تحت فراہم کردہ زندگی اور آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں 2011ء کے بمبئی بم دھماکے کے معاملے میں 14 برس سے زائد عرصے سے جیل میں بند 65 سالہ مسلم شخص کفیل احمد کو ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ممبئی ہائیکورٹ نے کہا کہ کسی بھی ملزم کو مقدمہ چلائے بغیر غیر معینہ مدت تک قید میں رکھنا غیر آئینی ہے اور یہ آئین ہند کے تحت فراہم کردہ زندگی اور آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس آر آر بھونسالے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جب مقدمہ مکمل ہونے کے آثار بھی نہ ہوں تو کسی بھی ملزم کو غیر معینہ مدت تک حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ایسی طویل قید، آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے جو زندگی اور فوری سماعت کا حق فراہم کرتا ہے، کفیل احمد جو ریاست بہار کے رہائشی ہیں، کو فروری 2011ء میں دلی پولیس نے گرفتار کیا تھا اور بعد ازاں انہیں ممبئی انسداد دہشت گردی کے حوالے کیا گیا تھا۔ ان پر مرکزی ملزم کی مدد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ کفیل احمد کے وکیل ایڈووکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ میرے موکل کو تقریبا 14برس سے حراست میں رکھا گیا ہے جبکہ ابھی تک مقدمہ کا آغاز بھی نہیں ہوا ہے، یہ انسانیت کی خلاف ورزی ہے۔ کفیل احمد کے اہلخانہ نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گو کہ یہ راحت تاخیر سے ملی ہے، مگر انصاف ہوا ہے، ہمارے بھائی کو بغیر کسی ثبوت کے دہشت گرد قرار دیا گیا اور اس کی زندگی کے چودہ برس بیکار چلے گئے، ہم عدالت کے شکرگزار ہیں کہ بالآخر انصاف دیا گیا۔ یاد رہے کہ 13جولائی 2011ء کو ممبئی کے زاویری بازار، اوپیرا ہاﺅس اور دادر کبوتر خانہ ہونے والے بم دھماکوں میں 21 افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی ہے ہائیکورٹ نے کفیل احمد
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔