پشاور ہائیکورٹ نے اسد قیصر کو حفاظتی ضمانت دے دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
پشاور ہائی کورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اسد قیصر کو حفاظتی ضمانت دے دی۔
عدالت عالیہ پشاور میں اسد قیصر کے مقدمات کی تفصیلات اور حفاظتی ضمانت کی بحالی کےلیے درخواست پر جسٹس ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے سماعت کی۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا پنڈورا باکس کھولا گیا ہے۔
پشاورہائیکورٹ کے بینچ کے روبرو اسد قیصر کے وکیل محمد آصف بابر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
عدالت نے اسد قیصر کی مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کےلیے درخواست بحال کی اور انہیں حفاظتی ضمانت دے دی۔
عدالت عالیہ پشاور نے اپنے فیصلے میں اسد قیصر کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا، ساتھ ہی وفاقی حکومت اور دیگر فریقین سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار اسلام آباد میں مصروف ہیں، اس وجہ سے آج پیش نہیں ہوسکے، ان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حفاظتی ضمانت
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔