data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور:  ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو نیب انکوائری میں شامل ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو حکم دیا ہے کہ 10 دن تک انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔

جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل پشاور ہائیکورٹ کے  2 رکنی بینچ نے  کیس کی سماعت کی۔ اس دوران درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر وقار نے عدالت کو بتایا کہ نیب اپر کوہستان اسکینڈل کی تحقیقات کر رہی ہے اور ان کے مؤکل کو بھی اس سلسلے میں انکوائری میں شامل کیا گیا ہے، تاہم گرفتاری کا خدشہ لاحق ہے۔

وکیل نے استدعا کی کہ اعظم سواتی کو نیب کے سامنے پیش ہونے کے لیے مہلت دی جائے تاکہ وہ احتساب عدالت سے رجوع کر سکیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ درخواست گزار نیب انکوائری میں شامل ہو کر اپنا مؤقف پیش کرے۔ عدالت نے نیب حکام کو ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق اعظم سواتی کے ساتھ برتاؤ کریں اور غیر ضروری کارروائی سے گریز کریں۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب محمد علی نے عدالت کو یقین دلایا کہ نیب اپنے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کرے گا اور درخواست گزار کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا کہ نیب آئندہ 10 روز تک اعظم سواتی کو گرفتار نہ کرے تاکہ وہ اپنی قانونی حکمتِ عملی مکمل کر سکیں اور احتساب عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کریں۔

واضح رہے کہ نیب کی جانب سے اعظم سواتی کو اپر کوہستان اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں نوٹس بھیجا گیا تھا۔ اس معاملے پر پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کسی بھی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں اور تحقیقات میں شامل ہو کر شفاف طریقے سے اپنا دفاع پیش کرنا چاہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انکوائری میں اعظم سواتی کو کہ نیب

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی