پشاور ہائیکورٹ کا اعظم سواتی کو نیب انکوائری میں شامل ہونے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو نیب انکوائری میں شامل ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو حکم دیا ہے کہ 10 دن تک انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔
جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل پشاور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس دوران درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر وقار نے عدالت کو بتایا کہ نیب اپر کوہستان اسکینڈل کی تحقیقات کر رہی ہے اور ان کے مؤکل کو بھی اس سلسلے میں انکوائری میں شامل کیا گیا ہے، تاہم گرفتاری کا خدشہ لاحق ہے۔
وکیل نے استدعا کی کہ اعظم سواتی کو نیب کے سامنے پیش ہونے کے لیے مہلت دی جائے تاکہ وہ احتساب عدالت سے رجوع کر سکیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ درخواست گزار نیب انکوائری میں شامل ہو کر اپنا مؤقف پیش کرے۔ عدالت نے نیب حکام کو ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق اعظم سواتی کے ساتھ برتاؤ کریں اور غیر ضروری کارروائی سے گریز کریں۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب محمد علی نے عدالت کو یقین دلایا کہ نیب اپنے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کرے گا اور درخواست گزار کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا کہ نیب آئندہ 10 روز تک اعظم سواتی کو گرفتار نہ کرے تاکہ وہ اپنی قانونی حکمتِ عملی مکمل کر سکیں اور احتساب عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کریں۔
واضح رہے کہ نیب کی جانب سے اعظم سواتی کو اپر کوہستان اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں نوٹس بھیجا گیا تھا۔ اس معاملے پر پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کسی بھی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں اور تحقیقات میں شامل ہو کر شفاف طریقے سے اپنا دفاع پیش کرنا چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انکوائری میں اعظم سواتی کو کہ نیب
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔