زہران ممدانی کی کامیابی کے پیچھے بھی عورت کا ہاتھ، وہ خاموش مجاہدہ کون ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
نیویارک سٹی کے نومنتخب میئر زہران ممدانی نے جہاں میئرشپ کے انتخابات میں تاریخی کامیابی سے بین الاقوامی توجہ حاصل کی وہیں ان کی اہلیہ رما دواجی نے پس پردہ رہ کر اس مہم کو ایک منفرد شناخت دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ نے نیویارک کے ممکنہ میئر زہران ممدانی کو دھمکی کیوں دی؟
مصورہ اور ڈیزائنر 28 سالہ رَما نے اگرچہ انتخابی سرگرمیوں میں براہ راست حصہ نہیں لیا مگر ممدانی کی انتخابی مہم کی بصری شناخت، رنگوں کا انتخاب اور مہم کی مجموعی جمالیات تیار کرنے کی ذمہ داری ان ہی نے نبھائی۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق مہم میں استعمال ہونے والے شوخ پیلے، نارنجی اور نیلے رنگ کے امتزاج جو بعد میں ممدانی کی عوامی تحریک کی پہچان بن گئے دواجی کی ہی تخلیقی سوچ کا نتیجہ تھے۔
رما دواجی نے امریکی ریاست ڈلاس میں پرورش پائی اور دبئی میں تعلیم حاصل کی۔ وہ صرف 4 سال قبل نیویارک منتقل ہوئیں۔ انہوں نے ممدانی کی مہم کو ایک ایسی جدید مگر عوامی اپیل رکھنے والی شناخت دی جس نے نوجوان ووٹروں کو متوجہ کیا۔
مزید پڑھیے: کون ہوگا نیویارک کا میئر، پولنگ جاری، ظہران ممدانی کو برتری حاصل، نتیجہ کب تک آنے کا امکان ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ رما نے انتخابی عمل کے دوران بمشکل کوئی عوامی بیان دیا یا سوشل میڈیا پر سرگرمی دکھائی۔ ان کی واحد انتخابی پوسٹ جون میں پرائمری الیکشن جیتنے کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے مختصر سا پیغام لکھا ’اس سے زیادہ فخر کی بات کوئی اور نہیں ہو سکتی‘۔
رما دواجی اور زہران ممدانی کی ملاقات سنہ 2021 میں ڈیٹنگ ایپ ’ہِنج‘ پر اس وقت ہوئی تھی جب ممدانی نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
دونوں کی پہلی ملاقات بروکلن کے یمنی کیفے ’قہوہ ہاؤس‘ میں ہوئی جس کے بعد دونوں نے مک کیرن پارک میں چہل قدمی کی۔
دوسری ملاقات پر بات کچھ اور آگے بڑھی اور ممدانی نے انہیں کوئینز میں اپنا محلہ دکھایا۔
یہ جوڑا اکتوبر سنہ 2024 میں منگنی کے بندھن میں بندھا جس کے صرف چند دن قبل ممدانی نے میئر کے عہدے کے لیے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔
مزید پڑھیں: ممدانی کا راستہ روکنے کے لیے ایرک ایڈمز میدان میں آگئے، دوبارہ الیکشن لڑنے کا اعلان
دسمبر میں دبئی میں ایک مختصر جشن کے بعد دونوں نے فروری 2025 میں مین ہیٹن کی عدالت میں سادہ سی تقریب میں شادی کی اور شادی کے بعد سرکاری دفتر کے سبز صوفوں پر ان کا فوٹو شوٹ ہوا۔
رما دواجی کا سوشل میڈیا ان کے فن سے بھرا ہوا ہے۔ سیرامک آرٹ، تصویری خاکے اور فلسطین سے اظہار یکجہتی پر مبنی فن پارے ان کا خاصہ ہیں۔
’دور حاضر کی شہزادی ڈیانا‘ان کے قریبی دوست حسنین بھٹی نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ رما ہماری دور حاضر کی شہزادی ڈیانا ہیں، خاموش، باوقار اور اثر انگیز۔
انتخابی مہم کے دوران وہ زیادہ تر پس پردہ رہیں مگر وہ پرائمری ووٹنگ کے دن ممدانی کے ساتھ پولنگ اسٹیشن گئیں اور بعد ازاں دی ڈیلی شو پر ان کی شرکت کے وقت بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: نیویارک میئر شپ کے امیدوار زہران ممدانی کی پرتعیش شادی تقریب، نظریات پر سوال اٹھنے لگے
کوئنز کے فاریسٹ ہلز اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے ممدانی کے آخری جلسے میں جہاں الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی شرکت کی رما دواجی وہاں موجود زہران ممدانی کے 10 ہزار حامیوں کے ساتھ بیٹھ کر شوہر کی تقریر سنتی رہیں اور انداز وہی ہمیشہ والا یعنی پرسکون مگر بااثر۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رما دواجی زہران ممدانی کی انتخابی مہم نیویارک میئر زہران ممدانی نیویارک میئر میئر زہران کی اہلیہ رما.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رما دواجی زہران ممدانی کی انتخابی مہم نیویارک میئر زہران ممدانی زہران ممدانی کی رما دواجی کے بعد
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔