نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی کامیابی پر دنیا بھر میں جشن، پاکستانی شوبز شخصیات کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
زہران ممدانی کی بطور میئر کامیابی پر نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھر میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے، پاکستانی شوبز شخصیات نے بھی ان کی تاریخی جیت پر مبارکباد پیش کی۔امریکا کے شہر نیویارک میں زہران ممدانی تاریخ رقم کرتے ہوئے میئر کے عہدے پر فائز ہوگئے، وہ اس عہدے پر پہنچنے والے پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی نژاد شخص ہیں۔زہران ممدانی کا منشور سستی رہائش اور کثیرالثقافتی ہم آہنگی پر مبنی تھا، جو دنیا کے مہنگے اور مصروف ترین شہروں میں سے ایک میں بے حد مقبول ہوا، انہیں 20 لاکھ سے زائد ووٹوں میں سے نصف سے کچھ زیادہ ووٹ حاصل ہوئے۔اس موقع پر بھارت اور پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین بھی ایک بات پر متفق نظر آئے کہ کاش زہران ممدانی ان کے بھی میئر ہوتے۔ان کی انتخابی مہم سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں چلائی گئی، جس کا انداز موجودہ نسل یعنی ملی نیئلز سے مطابقت رکھتا تھا، مہم کے اختتام پر انہوں نے نیویارک کے مشہور سب وے نظام کی ایک 10 سیکنڈ کی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ کہتے نظر آئے کہ اگلا اسٹاپ، سٹی ہال۔پاکستانی شوبز شخصیات نے بھی زہران ممدانی کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا۔نیویارک میں مقیم اور زہران ممدانی کے دوست گلوکار علی سیٹھی نے انسٹاگرام پر بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ نیویارک میں ووٹ دیا، جو زہران ممدانی کے لیے تھا۔زہران ممدانی کی کامیابی پر انٹرنیٹ پر جشن کا سماں ہے، ان کے حامی نیویارک کے شہری ہونے پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔میزبان شائستہ لودھی نے کہا کہ زہران ممدانی نے ثابت کیا ہے کہ اصل تبدیلی تب آتی ہے جب آپ لوگوں تک ان کی زبان میں پہنچیں اور ان کی عزت و وقار کے لیے جدوجہد کریں۔آسکر کے لیے نامزد فلم ساز میرا نائر کے بیٹے زہران ممدانی نے اپنی فتح کی تقریر میں بولی وڈ کا رنگ بھی شامل کیا۔انہوں نے اپنے اہلخانہ کو اسٹیج پر بلانے سے قبل 2004 کی بولی وڈ فلم ’دھوم‘ کا مشہور ٹائٹل ٹریک بجایا۔اداکارہ میرا نے بھی زہران ممدانی کی جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی والدہ کو مبارکباد پیش کی۔صحافی مہدی حسن نے زہران ممدانی کی جیت کو نسل پرستی کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے مذاق میں لکھا کہ زہران ممدانی اتنی کم عمری میں اتنے کامیاب ہوگئے ہیں کہ اب شادیوں میں آنٹیاں نوجوانوں کو مسترد کرنے کے لیے نئے معیار طے کریں گی۔انتخابی مہم کے دوران زہران ممدانی کو نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کا سامنا بھی کرنا پڑا، امریکی صدر نے انہیں یہودی مخالف کہا، جب کہ ہاتھ سے کھانا کھانے پر بھی مذاق اڑایا گیا.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: زہران ممدانی کی کی جیت کے لیے
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔