زہران ممدانی حماس کے حامی ہیں، نیویارک کے یہودی اپنے وطن واپس آجائیں؛ اسرائیل
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
ساری دنیا میں نیویارک کے پہلے مسلم اور کم عمر میئر منتخب ہونے پر زہران ممدانی کو ان کے مذہب، قوم اور رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر سراہا جا رہا ہے لیکن اسرائیل اس موقع پر بھی نفرت انگیزی سے باز نہ آیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے وزیر برائے تارکین وطن امور امیخائے چکلی نے زہران ممدانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں حماس کا ہمدرد قرار دیدیا۔
اسرائیلی وزیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ زہران ممدانی کی کامیابی نیویارک کی یہودی برادری کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔
ان کے بقول نیویارک شہر کبھی آزادی کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن اب ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہے جو اسرائیل مخالف مؤقف رکھتا ہے۔
اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ’’یہ وہی نیویارک ہے جہاں 19ویں صدی میں یہودی پناہ گزینوں نے آزادی سے زندگی گزاری۔ مگر اب اس شہر کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔
انھوں نے نیویارک کے یہودیوں کو مشورہ دیا کہ حماس کے حامی زہران ممدانی کے میئر بننے پر تمام یہودی نیویارک چھوڑ کر اسرائیل منتقل ہونے پر سنجیدگی سے غور کریں۔
امیخائے چکلی کے بقول نیویارک بھی اسی راستے پر چل نکلا ہے جس پر لندن پہلے ہی چل پڑا تھا اور جو لوگ حالات کو معمولی سمجھ رہے ہیں وہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ظہران ممدانی فلسطینیوں کے حقوق کے پرزور حامی ہیں اور ماضی میں متعدد بار اسرائیل کی جارحانہ اور تسلط پسندانہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
زہران ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ میئر منتخب ہوئے تو عالمی عدالت کی تعمیل میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو نیویارک آمد پر گرفتار کرلیں گے۔
تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ زہران ممدانی کا یہ اعلان محض علامتی تھا۔ امریکی قوانین کے تحت نیویارک پولیس عالمی عدالت کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں کر سکتی اور نیتن یاہو کو بطور سربراہ مملکت سفارتی استثنیٰ بھی حاصل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس لیے اگر نومنتخب مسلم میئر نیویارک زہران ممدانی نے نیتن یاہو کی گرفتاری کا حکم دیا تو یہ امریکی وفاقی قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔
سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘
View this post on Instagramاداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘
یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔
View this post on Instagramواضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔