شامی نژاد راما دواجی منفرد شناخت کے ساتھ نیویارک کی کم عمر ترین فرسٹ لیڈی بن گئیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کی اہلیہ، راما دواجی، اگرچہ انتخابی مہم کے دوران عوامی نگاہوں سے دور رہیں، تاہم ممدانی کی مہم کی پہچان اور سوشل میڈیا حکمتِ عملی تشکیل دینے میں اُن کا کردار نہایت اہم رہا۔
28 سالہ راما دواجی شامی نژاد امریکی آرٹسٹ ہیں، جن کی پرورش ٹیکساس میں ہوئی، تعلیم دبئی میں حاصل کی، اور محض چار سال قبل وہ نیویارک منتقل ہوئیں۔ اس غیر روایتی پس منظر کے باوجود وہ اب نیویارک سٹی کی تاریخ کی کم عمر ترین فرسٹ لیڈی بن چکی ہیں۔
ممدانی کی انتخابی مہم کے دوران راما اگرچہ عوامی تقریبات، جلسوں اور مباحثوں میں شریک نہیں ہوئیں، لیکن مہم کی بصری شناخت — انتخابی پوسٹرز، لوگوز، اور زرد، نارنجی اور نیلے رنگ کے امتزاج — انہی کی تخلیق تھی۔
بطور آرٹسٹ، راما دواجی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس زیادہ تر ان کے فن سے متعلق ہیں، جن میں فلسطینی حقوق کے حق میں تخلیقی کام بھی نمایاں ہیں۔ وہ میڈیا انٹرویوز سے بھی گریز کرتی رہی ہیں۔
ظہران ممدانی نے مئی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ “راما صرف میری اہلیہ نہیں بلکہ ایک باصلاحیت آرٹسٹ ہیں، جو چاہتی ہیں کہ انہیں اپنی شناخت اپنے انداز میں بنانے کا موقع دیا جائے۔”
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: راما دواجی
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔