تل ابیب میں ایک اور صہیونی فوجی کی خود سوزی
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہونیوالے ایک اور اسرائیلی ریزرو فوجی نے صہیونی وزارت جنگ کیساتھ وابستہ ایک محکمے کے اعلی افسر کے گھر کے سامنے خود کو آگ لگا لی اسلام ٹائمز۔ غاصب صیہونی رژیم کے سرکاری میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے ایک اور اسرائیلی فوجی نے خود کو آگ لگا لی ہے۔ اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں اسرائیلی چینل 12 کا کہنا ہے کہ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) میں مبتلا ایک ریزرو صیہونی فوجی نے ریکوری سے متعلق اسرائیلی وزارت جنگ کے ذیلی محکمے کے ایک اعلی افسر کے گھر کے سامنے خود کو آگ لگا لی۔
اس بارے غاصب صیہونی رژیم کے آرمی ریڈیو کا بھی کہنا ہے کہ سابق اسرائیلی فوجی خود سوزی کی اس کارروائی کے بعد شدید زخمی ہو گیا ہے۔ غاصب صیہونی رژیم کے آرمی ریڈیو نے بنایا کہ 7 اکتوبر کے بعد سے غزہ کی پٹی میں زخمی ہونے والے اسرائیلی فوج کے 50 فیصد اہلکار ذہنی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔
قبل ازیں صیہونی ریڈیو اینڈ ٹیلیویژن کارپوریشن نے اطلاع دی تھی کہ جنگ غزہ کی وجہ سے ذہنی امراض میں مبتلا درجنوں زخمی اسرائیلی فوجیوں نے وزارت جنگ کی عمارت کے سامنے جمع ہو کر "مساوات اور طبی خدمات" کا مطالبہ کیا تھا۔ عبری اخبار یدیعوت احرونوت (Yedioth Ahronoth) نے بھی اسرائیلی وزارت جنگ کے بحالی مرکز سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وقت تقریباً "80 ہزار زخمی اسرائیلی فوجی" زیر علاج ہیں جن میں سے "26 ہزار" ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوجی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔