تعلیم یافتہ نوجوان ملک و قوم کا سرمایہ اور مستقبل ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
مختلف علاقوں کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ جو غربت اور تنگدستی کیوجہ سے تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے، انکی تعلیم کیلیے کوشش کرنا ہماری دینی، قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ہمیں معاشرے کے مظلوم، محروم اور پسے ہوئے طبقات کی مدد کرنی چاہیے۔ وہ بچے جو غربت اور تنگدستی کی وجہ سے تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے اور زیور تعلیم سے محروم ہیں، ان کی تعلیم کے لیے کوشش کرنا ہماری دینی، قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے جیکب آباد کے نواحی علاقوں مہدی آباد عنایت ٹالانی، اعجاز ٹالانی اور عبداللہ لاشاری کے دورہ کے موقع پر عوام سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حاجی شاہ مراد ڈومکی، میر مظفر ٹالانی، منصب علی ڈومکی، استاد عبدالفتاح ڈومکی، نظیر احمد اور دیگر ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان اس وقت غربت، افلاس اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ صاحب استطاعت افراد معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقے کی بھرپور سرپرستی کریں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان ملک و قوم کا سرمایہ اور مستقبل ہیں، جبکہ بے روزگار نوجوان معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ لہٰذا نوجوانوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ہنر سکھانے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کر سکیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 9 نومبر کو یوم اقبال کے موقع پر "فروغ تعلیم اور خدمتِ انسانیت" کے عنوان سے ایک خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں قومی اتحاد فروغ علم اور خدمت انسانیت کے پیغام کو اجاگر کیا جائے گا۔ آخر میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے افکار آج بھی امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ہمیں اقبالؒ کے پیغام خودی، آزادی اور ایمان سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک بامقصد، بااخلاق اور خوددار قوم بن سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر