شہری حکومت ناجائز منافع خروں کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کرے، علامہ مبشر حسن
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم رہنما نے کہا کہ شہری حکومت ناجائز منافع خروں کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کرے، روزانہ کی بنیاد پر سخت مانیٹرنگ سمیت کوالٹی اور قیمتوں کا جائزہ لیا جائے، ملوث افراد پر موقع پر ہی بھاری جرمانے اور سخت مقدمات قائم کئے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ مبشر حسن نے پھل و سبزیوں سمیت ایشائے خوردونوش کی بلا جواز بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہر قائد گراں فروش مافیہ کا حب بنتا جارہا ہے، روز مرہ اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے، سبزی، پھلوں سمیت دیگر ایشائے خوردونوش کی قیمتوں میں مند پسند اضافے سے عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر ی من پسند قیمتوں کی وجہ سے عوام پریشان ہیں ضلعی انتظامیہ کی غفلت نے ناجائز منافع خوروں کے حوصلے بلند کئے ہوئے ہیں، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں من پسند اضافہ کے خلاف کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے، پھل اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی نوٹس تو لیتے ہیں مگر عملی اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں، گراں فروشی پر قابو پانے کے حکومتی دعوے محض اخباری بیانات ثابت ہورہے ہیں، ضلعی انتظامیہ نے انہیں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، گوشت،کے بعد اب سبزیاں بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری حکومت ناجائز منافع خروں کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کرے، روزانہ کی بنیاد پر سخت مانیٹرنگ سمیت کوالٹی اور قیمتوں کا جائزہ لیا جائے، ملوث افراد پر موقع پر ہی بھاری جرمانے اور سخت مقدمات قائم کئے جائیں، ریلیف کے ساتھ کم سرکاری قیمتوں کاسختی کے ساتھ نفاز کیا جائے تاکہ اس کا موثر فائدہ عوام کو ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیں تو پھر طے شدہ نرخوں سے زائد قیمت پر خرید و فروخت کی کسی کو جرات نہیں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ناجائز منافع اور سخت کے خلاف
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک