پاکستان اور ترکیے کا ایوی ایشن‘ دفاعی مینوفیکچرنگ اور ہائی ٹیک صنعتوں میں تعاون پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-08-32
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایوی ایشن، دفاعی مینوفیکچرنگ اور ہائی ٹیک صنعتوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیر تجارت جام کمال خان سے ترکیہ کے اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی جس میں ایوی ایشن، ڈیفنس مینوفیکچرنگ اور ہائی ٹیک صنعتوں میں تعاون کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترکیہ کے وفد نے پاکستان میں جوائنٹ وینچرز اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ ترک کمپنیاں پاکستان میں مینوفیکچرنگ صلاحیتیں قائم کرنے کی خواہش مند ہیں۔ جام کمال خان نے دوطرفہ صنعتی و اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور ایرو اسپیس، دفاعی پیداوار اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کے مواقع اجاگر کیے۔ پاکستان نے ترک کمپنیوں کو خطے کی مارکیٹوں کے لیے اسٹریٹجک پروڈکشن پارٹنر بنانے کا مشورہ دیا۔ ترکیہ کے وفد نے پاکستان کے اسٹریٹجک وڑن کو سراہا اور طویل المدتی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔ فریقین نے بی ٹو بی روابط، سرمایہ کاری پر مبنی صنعتی شراکت داری اور ٹیکنالوجیکل تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا جبکہ مستقبل میں بینکاری اور تجارتی فیسلیٹیشن میکنزم مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔