ویب ڈیسک : بلوچستان میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے نشانہ بنایا، اہلکاروں سمیت 8 افراد زخمی ہو گئے۔

 پولیس نے بتایا ہے کہ گاڑی پر بم حملے میں ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ محفوظ رہے، زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

 تربت پولیس کے ڈی ایس پی نذیر احمد نے بتایا کہ کیچ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر تربت میں تھانہ روڈ پر اس وقت دھماکا ہوا جب ڈپٹی کمشنر کیچ میجر ریٹائرڈ بشیر احمد بڑیچ کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی، وہ سرکاری محافظوں کے ہمراہ گھرسے دفتر جارہے تھے-

بھارتی سٹار کرکٹرICUمیں داخل، وجہ کیا بنی؟

انہوں نے بتایا کہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ قریب کھڑی چار پانچ گاڑیوں اورعمارتوں کو شدید نقصان پہنچا، تاہم ڈپٹی کمشنر گاڑی بلٹ پروف ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے، ان کی گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا۔

  انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں ڈپٹی کمشنر کی حفاظت پر تعینات سات لیویز اہلکار اور ایک راہ گیر زخمی ہوا، جنہیں فوری طور پر تربت کے گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا، تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

پاکستان کے تمام ائیرپورٹس کو کیش لیس بنانے کا فیصلہ

 ڈی ایس پی کے مطابق دھماکا موٹرسائیکل پر نصب ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا جس میں تقریباً 15 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

 یاد رہے کہ بلوچستان میں کچھ مہینوں سے انتظامی افسران پر حملوں اور اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، رواں سال مئی میں ضلع سوراب میں شدت پسندوں کے حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی ہلاک ہوگئے تھے۔

 پچھلے سال اگست میں ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ کو شدت پسندوں نے ناکہ بندی پر نہ رکنے پر مستونگ میں فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے سے ملکی معیشت مستحکم، اسٹیٹ بینک کا اعتراف

 رواں برس 4 جون کو ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی کو اغوا کیا گیا تھا، جنہیں کئی مہینے بعد رہا کیا گیا، جبکہ 10 اگست کو زیارت سے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل باقی تاحال لاپتہ ہیں۔
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر کی نے بتایا کیا گیا

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم