کیچ میں ڈپٹی کمشنر کی گاڑی پر ریموٹ بم دھماکا،لیوی اہلکاروں سمیت 8 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع کیچ میں ڈپٹی کمشنر کی گاڑی پر ریموٹ بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں لیوی اہلکاروں سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق دھماکا تربت پریس کلب روڈ پر اُس وقت ہوا جب ڈپٹی کمشنر کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا، ضلع کیچ میں ڈپٹی کمشنر کی گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کی فراہمی کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ، شواہد اکھٹے کئے جارہے ہیں، ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ دھماکے میں محفوظ رہے۔
ایس ایس پی کیچ کیپٹن ( ر) زوہیب محسن بلوچ نے بتایا کہ کہ بارودی مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، جسے ریموٹ کنٹرول کی مدد سے اڑا دیا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس اور ایف سی موقع پر پہنچ گئی ہیں مزید تفیش جاری ہے، ڈپٹی کمشنر کیچ میجر (ر) بشیر محفوظ رہے ہیں، زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر کی
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔