data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251212-01-22

 

اسلام آباد(آن لائن)ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا ہے کہ سینیٹ کو سیاسی محاذ آرائی، انتشار اور کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی کا میدان نہیں بننے دیں گے،چیئرمین سینیٹ کی جاری کردہ رولنگ پر مکمل عمل درآمد کے لیے تمام پارلیمانی لیڈرز کو باضابطہ خطوط جاری کر دیے گئے ہیں۔ایک بیان میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ سینیٹ ملک کا واحد ایوان ہے جہاں چاروں صوبوں کی برابر نمائندگی ہے، اس ایوان کی حرمت، قواعد و ضوابط اور آئینی دائرہ کار کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ چیئرمین سینیٹ کی جاری کردہ رولنگ پر مکمل عمل درآمد کے لیے تمام پارلیمانی لیڈرز کو باضابطہ خطوط جاری کر دیے گئے ہیں،  ریکویسٹڈ ریسیونگ بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ رولنگ کی کاپی لیڈر آف دی ہاؤس، وزارتِ قانون اور چیف ویپ کو بھی ارسال کی گئی ہے تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ ایوان میں ہر رکن کو جمہوری اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے گفتگو کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ  سینیٹ کے فلور پر قومی ہیروز خواہ وہ عسکری ہوں، سیاسی، عدلیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی بھی شعبے کے نمائندہ ہوں ‘کے حوالے سے منفی یا توہین آمیز گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سیدال خان نے کہا کہ سینیٹ کو سیاسی محاذ آرائی، انتشار اور کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی کا میدان نہیں بننے دیں گے، کیونکہ موجودہ علاقائی و عالمی حالات میں پاکستان کسی اندرونی خلفشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پاکستان عسکری، معاشی اور سیاسی محاذوں پر بہت اہم مرحلے سے گزر رہا ہے، اور میڈیا سمیت وہ تمام افراد اور ادارے جو مشکل حالات میں ملک کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں، حقیقی قومی ہیروز ہیں اور احترام کے مستحق ہیں۔

 

خبر ایجنسی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیدال خان نے کہا

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو