سینیٹ کو سیاسی محاذ آرائی کا میدان نہیں بننے دینگے ‘سیدال خان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-01-22
اسلام آباد(آن لائن)ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا ہے کہ سینیٹ کو سیاسی محاذ آرائی، انتشار اور کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی کا میدان نہیں بننے دیں گے،چیئرمین سینیٹ کی جاری کردہ رولنگ پر مکمل عمل درآمد کے لیے تمام پارلیمانی لیڈرز کو باضابطہ خطوط جاری کر دیے گئے ہیں۔ایک بیان میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ سینیٹ ملک کا واحد ایوان ہے جہاں چاروں صوبوں کی برابر نمائندگی ہے، اس ایوان کی حرمت، قواعد و ضوابط اور آئینی دائرہ کار کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ چیئرمین سینیٹ کی جاری کردہ رولنگ پر مکمل عمل درآمد کے لیے تمام پارلیمانی لیڈرز کو باضابطہ خطوط جاری کر دیے گئے ہیں، ریکویسٹڈ ریسیونگ بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ رولنگ کی کاپی لیڈر آف دی ہاؤس، وزارتِ قانون اور چیف ویپ کو بھی ارسال کی گئی ہے تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ ایوان میں ہر رکن کو جمہوری اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے گفتگو کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے فلور پر قومی ہیروز خواہ وہ عسکری ہوں، سیاسی، عدلیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی بھی شعبے کے نمائندہ ہوں ‘کے حوالے سے منفی یا توہین آمیز گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سیدال خان نے کہا کہ سینیٹ کو سیاسی محاذ آرائی، انتشار اور کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی کا میدان نہیں بننے دیں گے، کیونکہ موجودہ علاقائی و عالمی حالات میں پاکستان کسی اندرونی خلفشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پاکستان عسکری، معاشی اور سیاسی محاذوں پر بہت اہم مرحلے سے گزر رہا ہے، اور میڈیا سمیت وہ تمام افراد اور ادارے جو مشکل حالات میں ملک کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں، حقیقی قومی ہیروز ہیں اور احترام کے مستحق ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔