Express News:
2026-07-24@04:19:13 GMT

1971 کی اصل کہانی، غازی کی زبانی: تہار جیل کی اذیتوں سے محاذِ جنگ تک

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

اسلام آباد:

پاکستان کی تاریخ میں 1971 کی پاک بھارت جنگ کی کہانی سیاہ حروف میں لکھی جائے گی۔

1971ء کی جنگ میں بھارتی تربیتی یافتہ دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی نے  مجیب الرحمان کے  حامیوں  کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان میں بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام کیا۔ پاکستانی فوج  پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے  گئے۔ پاکستان کے دفاع کیلئے پاک فوج کے غازیوں کی جانفشانی اور شجاعت بھری داستان کبھی فراموش نہیں کی جا سکے گی۔

1971 کی جنگ میں حصہ لینے والے پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل  سجاد اختر ملک (ریٹائیرڈ) نے 1971 کی جنگ کی آپ بیتی سناتے  ہوئے بتایا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو میں نے رضاکارانہ طور پر حصہ لیا اور دسمبر میں مشرقی پاکستان پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز مجیب الرحمان کے ساتھ تھے اور وہ ان کے پیروکاروں کے ساتھ رہتے تھے، بھارتی کمانڈوز ہماری  دفاعی پوزیشن پر سیاہ رات کی تاریکی میں وار کرتے، سپلائیز روکتے اور  خواتین کے ساتھ زیادتیاں کرتے تھے۔

 لیفٹیننٹ کرنل  سجاد اختر ملک (ریٹائرڈ) نے انکشاف کیا کہ بھارتی فوجی پاکستانی فوجیوں کی وردیاں پہن کر لوگوں پر حملے کرتے انہیں قتل کرتے اور الزام پاک فوج پر لگا دیتے تھے، پاک فوج بارڈر پرہزاروں میل دور اپنے دفاع میں مصروف تھی، وہ دفاعی حدود سے آگے نہیں جا سکتے تھے، انہوں نے لوگوں کے ساتھ کیسے ظلم کرنے تھے؟۔

پاک فوج کے سابق افسر کا مزید کہنا تھا کہ عوام پر جو مظالم ڈھائے گئے وہ مکتی باہنی کے دہشت گردوں نے مجیب الرحمان کے حامیوں کے ساتھ مل کر کیے اور یہ عالمی سطح پر ثابت شدہ حقیقت ہے،  یہ تاثر کہ پاکستان کے 90 ہزار فوجی قیدی بنے یہ  صرف ایک جھوٹا پروپیگنڈا تھا، ان قیدیوں میں زیادہ تر مقامی صنعتکار اور سویلین تھے۔

لیفٹیننٹ کرنل (ر) سجاد اختر ملک نے بتایا کہ بھارتی فوج نے اُنہیں نے 6 مہینے تک تہار جیل میں  بدترین تشدد کا نشانہ بنایا،  پہلے 2 ہفتوں تک مجھے ڈیتھ سیل میں قید رکھا،  جنوری کی شدید سردی میں وہاں اذیت برداشت کرتا رہا، انہوں نے مجھے بار بار پیشکش کی کہ اگر آپ تعاون کریں تو ہم آپ کے گھر والوں تک پیغام پہنچا دیں گے، چھ مہینے تک میرے خاندان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ میں زندہ ہوں یامرچکا ہوں، خدا کا شکر ہے کہ میں  مشکل وقت میں ایک لمحہ  کے لیے بھی  نہیں ٹوٹا۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت نے مشرقی پاکستان میں ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیا اور اردو اسپیکنگ آبادی کو نشانہ بنایا، بھارتی فوجی پاکستان کا نام لینے والوں  کو تشدد  کا نشانہ بناتے تھے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی فوج انہوں نے بتایا کہ پاک فوج کے ساتھ فوج کے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت