1971 کی اصل کہانی، غازی کی زبانی: تہار جیل کی اذیتوں سے محاذِ جنگ تک
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کی تاریخ میں 1971 کی پاک بھارت جنگ کی کہانی سیاہ حروف میں لکھی جائے گی۔
1971ء کی جنگ میں بھارتی تربیتی یافتہ دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی نے مجیب الرحمان کے حامیوں کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان میں بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام کیا۔ پاکستانی فوج پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ پاکستان کے دفاع کیلئے پاک فوج کے غازیوں کی جانفشانی اور شجاعت بھری داستان کبھی فراموش نہیں کی جا سکے گی۔
1971 کی جنگ میں حصہ لینے والے پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل سجاد اختر ملک (ریٹائیرڈ) نے 1971 کی جنگ کی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو میں نے رضاکارانہ طور پر حصہ لیا اور دسمبر میں مشرقی پاکستان پہنچا۔
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز مجیب الرحمان کے ساتھ تھے اور وہ ان کے پیروکاروں کے ساتھ رہتے تھے، بھارتی کمانڈوز ہماری دفاعی پوزیشن پر سیاہ رات کی تاریکی میں وار کرتے، سپلائیز روکتے اور خواتین کے ساتھ زیادتیاں کرتے تھے۔
لیفٹیننٹ کرنل سجاد اختر ملک (ریٹائرڈ) نے انکشاف کیا کہ بھارتی فوجی پاکستانی فوجیوں کی وردیاں پہن کر لوگوں پر حملے کرتے انہیں قتل کرتے اور الزام پاک فوج پر لگا دیتے تھے، پاک فوج بارڈر پرہزاروں میل دور اپنے دفاع میں مصروف تھی، وہ دفاعی حدود سے آگے نہیں جا سکتے تھے، انہوں نے لوگوں کے ساتھ کیسے ظلم کرنے تھے؟۔
پاک فوج کے سابق افسر کا مزید کہنا تھا کہ عوام پر جو مظالم ڈھائے گئے وہ مکتی باہنی کے دہشت گردوں نے مجیب الرحمان کے حامیوں کے ساتھ مل کر کیے اور یہ عالمی سطح پر ثابت شدہ حقیقت ہے، یہ تاثر کہ پاکستان کے 90 ہزار فوجی قیدی بنے یہ صرف ایک جھوٹا پروپیگنڈا تھا، ان قیدیوں میں زیادہ تر مقامی صنعتکار اور سویلین تھے۔
لیفٹیننٹ کرنل (ر) سجاد اختر ملک نے بتایا کہ بھارتی فوج نے اُنہیں نے 6 مہینے تک تہار جیل میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، پہلے 2 ہفتوں تک مجھے ڈیتھ سیل میں قید رکھا، جنوری کی شدید سردی میں وہاں اذیت برداشت کرتا رہا، انہوں نے مجھے بار بار پیشکش کی کہ اگر آپ تعاون کریں تو ہم آپ کے گھر والوں تک پیغام پہنچا دیں گے، چھ مہینے تک میرے خاندان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ میں زندہ ہوں یامرچکا ہوں، خدا کا شکر ہے کہ میں مشکل وقت میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں ٹوٹا۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت نے مشرقی پاکستان میں ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیا اور اردو اسپیکنگ آبادی کو نشانہ بنایا، بھارتی فوجی پاکستان کا نام لینے والوں کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی فوج انہوں نے بتایا کہ پاک فوج کے ساتھ فوج کے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔