Express News:
2026-07-24@02:17:27 GMT

بھارتی پراپیگنڈے کا صائب جواب

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے پاکستانی افواج سے متعلق بیان کو بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ذمے دار ریاست، تمام ادارے، بشمول فوج، قومی سلامتی کے مضبوط ستون، بھارتی قیادت کی پاکستان کے ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوششیں پراپیگنڈا مہم کا حصہ، مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا، کوئی پروپیگنڈا اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا کہ پاک فوج نے مئی میں بھارتی جارحیت کے خلاف ملک اورقوم کا بھرپور دفاع کیا۔ بھارت کے خطے میں عدم استحکام پھیلانے والے اقدامات اور پاکستان میں اس کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے توجہ ہٹانا ہے۔

درحقیقت بھارتی وزیر خارجہ کے بیان نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ نئی دہلی کا رویہ محض سفارتی تنازع نہیں، بلکہ ایک ہمہ جہت بیانیہ سازی کا حصہ بن چکا ہے جس کا مقصد پاکستان کے قومی اداروں کو بدنام کرنا، عوامی اعتماد کو متزلزل کرنا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف ایک مخصوص تاثرکو پختہ کرنا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جس شدت اور وضاحت کے ساتھ اس بیان کو رد کیا ہے، وہ نہ صرف سفارتی آداب کی بحالی کی کوشش ہے بلکہ پاکستان کی ریاستی پالیسی، قومی خود داری اور خطے میں امن کے لیے اس کے مستقل موقف کی بھی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اس تناظر میں اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات کوئی پہلی بار سامنے نہیں آئے بلکہ یہ برسوں پر محیط ایک حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد خطے کی اصل حقیقتوں سے توجہ ہٹانا ہے۔

 پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہیں بلکہ داخلی استحکام، دہشت گردی کے خلاف جنگ، امن کی بحالی اور انسانی و قدرتی آفات کے دوران قوم کی مدد کے لیے بھی نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ مئی 2025 کے تنازع کے دوران پاکستانی افواج کی استعداد اور پیشہ ورانہ مہارت کا ایک بار پھرکھل کر اظہار ہوا، جسے نہ داخلی حلقوں میں جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی عالمی سطح پر اس کی اہمیت سے انکارکیا جا سکتا ہے۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان نے 2001 کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف جس بے مثال قربانی اور مسلسل جدوجہد کا مظاہرہ کیا، وہ دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس دوران پاکستان کے مختلف اداروں بالخصوص افواج نے وہ کردار ادا کیا جس نے نہ صرف ملک کو خطرناک گروہوں کے چنگل سے نکالا بلکہ عالمی برادری کو بھی ایک بڑے ممکنہ بحران سے محفوظ رکھا۔ اس تناظر میں بھارتی وزیر خارجہ کا حالیہ بیان نہ صرف غیر ذمے دارانہ ہے بلکہ حقائق کے سراسر منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے بیانات کا مقصد بظاہر داخلی عوامی رائے کو متاثرکرنا بھی ہوتا ہے۔

بھارت میں گزشتہ کئی برسوں سے انتہا پسندی کی سیاست اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہاں کے سیاسی رہنما ہر قومی مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کو ایک آسان ہدف کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف سخت بیانات وہاں کے ووٹرز میں ایک مخصوص جذباتی لہر پیدا کرتے ہیں جسے سیاسی جماعتیں بار بار استعمال کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انتخابی موسم میں پاکستان کے خلاف بیانات کی گونج تیز ہو جاتی ہے۔ حالیہ بیان بھی اسی سیاسی اور نظریاتی ماحول کا حصہ دکھائی دیتا ہے جہاں خارجہ پالیسی کو انتخابی نعروں کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں حقیقت پسندی کی توقع کرنا شاید خود فریبی ہوگا۔بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم اُس بڑے بیانیے کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت، پاکستان کے اداروں کو کمزور دکھانا اور بین الاقوامی برادری کے سامنے منفی تاثر قائم کرنا شامل ہے۔

بھارت کی اس حکمت عملی کے کئی محرکات ہیں جن میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ بھارت خود اندرونی سطح پر شدید انتشار اور تقسیم کا شکار ہے۔ کشمیر سمیت پورے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر غور کرنے کے بجائے وہاں کی قیادت پاکستان کے بارے میں سخت بیانات دے کر اپنے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ پاکستان کی طرف انگلی اٹھا کر بھارت اپنی داخلی ناکامیوں، اقلیتوں کے حقوق کی پامالی،کسان تحریک، مذہبی انتہا پسندی اور معاشی عدم توازن سے توجہ ہٹانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ بھارت کی موجودہ حکومت کا طرزِ عمل اس بات کا متقاضی ہے کہ ایک بیرونی دشمن کو لازمی طور پر زندہ رکھا جائے تاکہ قوم کو خوف اور فسطائی قوم پرستی کی بنیاد پر یکجا رکھا جائے۔

اس حکمت عملی کا سب سے آسان ہدف پاکستان ہے، جس کی طرف کوئی بھی الزام لگانا، بھارتی سیاست میں ایک آزمودہ نسخہ سمجھا جانے لگا ہے۔پاکستان کے لیے اس صورتحال سے نمٹنا ایک پیچیدہ سفارتی چیلنج ہے۔ ایک طرف پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے، دوسری طرف بھارت کے جارحانہ بیانات اور اقدامات اس ماحول کو خراب کرنے کے لیے مسلسل متحرک رہتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ وہ امن پسند ملک ہے اور تمام ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصول پر تعلقات استوارکرنا چاہتا ہے۔

باہمی احترام، سفارتی تقاضوں اور عالمی قوانین کی پاسداری وہ بنیادی اصول ہیں جنھیں پاکستان نہ صرف اپناتا ہے بلکہ دوسروں سے بھی ان پر عملدرآمد کی توقع رکھتا ہے، لیکن جب ایک ہمسایہ ملک مسلسل اشتعال انگیزی، غلط بیانی اور پروپیگنڈے کا سہارا لے تو اس کا مناسب جواب دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود بھارت کی سیاسی قیادت کا رویہ غیر ذمے دارانہ اور اشتعال انگیز ہے۔ ایسے بیانات خطے میں عسکری تناؤ بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں جو عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ہے۔

پاکستان کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ ایٹمی ممالک کے درمیان بات چیت، سفارت کاری اور ذمے دارانہ طرزِ عمل ہی واحد راستہ ہے۔ مئی 2025 کے تنازع نے یہ واضح کر دیا کہ فوجی طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس تنازع میں پاکستان نے انتہائی ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور اپنے ملک اور اپنی قوم کا دفاع کرتے ہوئے عالمی قوانین کی پاسداری کو بھی اہمیت دی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے پاکستان کے کردار کو نہ صرف سراہا بلکہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم بھی کیا۔بھارت کے اندرونی حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ وہاں کی حکومت ہر ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنے کی حکمت عملی اپناتی ہے۔

اسی بیانیے کے ذریعے بھارت کی موجودہ حکومت نے نہ صرف کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں بلکہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات خراب کیے۔ بھارتی وزیر خارجہ کا بیان اسی تسلسل کا حصہ ہے جہاں پاکستان کو ایک ’پراکسی دشمن‘ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقبل کا تعلق اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتا جب تک بھارت اپنی پالیسیوں میں سنجیدہ تبدیلی نہ لائے۔

پاکستان نے ہر فورم پر یہ واضح کیا ہے کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، لیکن مذاکرات اُس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے جب تک بھارت اپنے داخلی سیاسی مفاد کی خاطر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بند نہ کرے اور خطے میں حقیقی امن و استحکام کے لیے ذمے داری کا مظاہرہ نہ کرے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ برابری، احترام اور باہمی تعاون کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی حمایت کی ہے، لیکن بھارت کے حالیہ بیانات اس کے برعکس ثابت کرتے ہیں کہ نئی دہلی خطے میں ایک جارحانہ بیانیہ کو فروغ دے رہا ہے۔

دنیا اب بدل رہی ہے اور ممالک کی طاقت محض عسکری استعداد سے نہیں بلکہ بیانیاتی قوت، داخلی استحکام، عالمی سفارت کاری اور عوامی اتحاد سے بھی ماپی جاتی ہے۔ پاکستان اس حقیقت کو سمجھتا ہے اور اسی لیے وہ ہر محاذ پر ذمے داری، سنجیدگی اور اصولی موقف کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کا یہی سفارتی رویہ نہ صرف اسے عالمی برادری میں معتبر بناتا ہے بلکہ بھارت کے بے بنیاد الزامات کو بھی خود بخود بے نقاب کردیتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خطے میں امن کی بحالی کی سب سے بڑی ذمے داری اُس ملک پر عائد ہوتی ہے جو طاقت کے گھمنڈ میں سفارتی آداب بھول رہا ہو۔ بھارت کی سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن دشمن بیانات اور نفرت پر مبنی سیاست نہ تو کسی قوم کو مضبوط کرتی ہے اور نہ ہی خطے کو کوئی فائدہ پہنچاتی ہے۔

پاکستان نے امن کا ہاتھ بارہا بڑھایا اور آیندہ بھی بڑھاتا رہے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی خود مختاری، اپنے اداروں اور اپنے دفاع کے لیے ہمیشہ متحد، مضبوط اور تیار ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، قومیں بدل رہی ہیں، لیکن بدقسمتی سے بھارت کی سوچ اور اس کا بیانیہ اب بھی ماضی کی تلخیوں میں قید ہیں۔ یہ وقت نفرت کی نہیں بلکہ حقیقت پسندی، امن پسندی اور خطے کی مشترکہ ترقی کی بنیاد رکھنے کا ہے۔ پاکستان اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور امید رکھتا ہے کہ بھارت بھی ایک دن اسی راستے کو اختیار کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی وزیر خارجہ پاکستان کے خلاف پاکستان کی پاکستان نے کہ پاکستان بھارت کی ممالک کے کہ بھارت بھارت کے کے ساتھ ہے بلکہ ہے اور کے لیے کا حصہ رہا ہے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا