بھارت کا 214 ارب ڈالر کے جوہری منصوبوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف ہے کہ 2047ء تک 100 گیگا واٹ جوہری توانائی پیدا کی جائے، تاکہ بھارت کو ترقی یافتہ معیشت بنایا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت نے توانائی سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی کی تیاری کرتے ہوئے 214 ارب ڈالر کے جوہری منصوبوں کا اعلان کردیا۔ امریکی ٹی وی بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیرِ جوہری توانائی جیتندر سنگھ کا کہنا ہے کہ نیا جوہری بل اس ہفتے کابینہ میں پیش کیا جائے گا اور رواں پارلیمانی سیشن میں منظوری کے لیے رکھا جائے گا۔ بل کا مقصد نجی شعبے کو جوہری توانائی میں سرمایہ کاری کی اجازت دینا اور کاروباری عمل کو آسان بنانا ہے، وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف ہے کہ 2047ء تک 100 گیگا واٹ جوہری توانائی پیدا کی جائے، تاکہ بھارت کو ترقی یافتہ معیشت بنایا جا سکے۔
بھارت میں فی الحال نجی کمپنیوں کا کردار صرف آلات کی فراہمی تک محدود ہے، تاہم نئی قانون سازی کے بعد انہیں بجلی کی پیداوار میں شمولیت کی اجازت بھی مل جائے گی، حکومت جوہری ذمہ داری کے قانون میں بھی ترمیم کرے گی، جو اب تک غیر ملکی کمپنیوں کے منصوبوں میں رکاوٹ رہا ہے۔ بھارت میں اس وقت غیر ملکی ٹیکنالوجی پر مبنی واحد پلانٹ کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ ہے، جو روسی تعاون سے چل رہا ہے، جبکہ مزید 4 ری ایکٹرز زیرِ تعمیر ہیں، نئی پالیسی کے تحت روس کے ساتھ ایک اور منصوبہ جلد شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوہری توانائی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔