کوئٹہ میں دفعہ 144 نافذ، موٹرسائیکل کی ڈبل سواری، اسلحے کی نمائش اور منہ ڈھانپنے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
بلوچستان حکومت نے کوئٹہ میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر 22 دسمبر تک دفعہ 144 نافذ کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق محکمہ داخلہ بلوچستان نے کوئٹہ ضلع میں دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس کے مطابق ضلع بھر میں دفعہ 144 کے تحت 22 دسمبر تک پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش و استعمال، موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی تاہم خواتین اور بچوں کا استثنیٰ ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق گاڑیوں پر سیاہ شیشوں کے استعمال پر سختی سے پابندی، بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت، چار سے زائد افراد کے اجتماعات، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی ہوگی۔
اس کے علاوہ عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے کے لیے ماسک یا مفلر کے استعمال پر پابندی عائد جبکہ تیزاب اور دھماکہ خیز مواد کی نقل و حمل بھی ممنوع ہوگی۔
محکمہ داخلہ کے مطابق دفعہ 144 پر عملدرآمد کیلیے پولیس، لیویز اور ایف سی کو سخت کارروائی کے اختیارات دے دیے گئے، خلاف ورزی پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کاروائی ہوگی۔
محکمہ داخلہ نے ڈپٹی کمشنر کو پابندیوں کی رپورٹ روزانہ محکمہ داخلہ کو ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ داخلہ پر پابندی کے مطابق
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔