پی ٹی آئی میں جمہوریت نام کی چیز نہیں، اب بہت ہوچکا، بیرسٹر عقیل
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں جمہوریت نام کی چیز نہیں، ہم نے ان کو کئی بار بات چیت کی دعوت دی، اب بہت ہوچکا۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں بیرسٹر عقیل اور پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے شرکت کی، وفاقی وزیر نے کہا کہ نئی نسل کو حقائق کا معلوم ہونا چاہئے، ہم 9 مئی والے نہیں، 28 مئی والے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عامر ڈوگر نے کہا ہے کہ عطا تاڑ ہمیں بھاشن دینے والے ہوتے کون ہیں!ہم بانی پی ٹی آئی کو مائنس نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ نے ہمیشہ خدمت کی سیاست کی ہے، ن لیگ نے موٹروے کا جال بچھایا، ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ملک کے وقار، سالمیت پر کبھی سمجھوتا نہیں ہوا، ماضی میں جب بھی ہمارے ساتھ ناانصافیاں ہوئیں اور ہم نے بتایا۔
اُن کا کہنا تھا کہ کیا نواز شریف نے آئی ایم ایف کو کبھی خط لکھے، نواز شریف نے کبھی ملک کے خلاف کچھ نہیں کیا، ہم جمہوری رویوں پر یقین رکھتے ہیں، یہ رویے قائم ہونے چاہئیں۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کولانچ کیا گیا، قومیں نعروں، دعووں اور تقاریر سے ترقی نہیں کرتیں، بانی پی ٹی آئی کی طرف سے کردار کشی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آدھے سے زیادہ لوگ کہتے ہیں خدارا کوئی رستہ نکالیں، کے پی کے لوگ چیخ اٹھے ہیں کہ پنجاب کی طرح انہیں بھی ترقی چاہیے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے نواز شریف کو مائنس نہیں کیا، ہر کام میں نواز شریف سے مشاورت کی جاتی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ گورنر راج لگانے سے متعلق سنجیدگی سے بات ہورہی ہے، گورنر راج آئینی عمل ہے، لیکن انتہائی غیر پسندیدہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر عقیل پی ٹی ا ئی نواز شریف نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں