تیترکے شکار پرمٹس کی نیلامی، سب سے مہنگا پرمٹ کتنے میں نیلام ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
لاہور:
پنجاب میں پہلی بار سالٹ رینج کے وسیع پہاڑی سلسلے میں تیتر کے شکار کے لیے سرکاری پرمٹس کی باضابطہ نیلامی کی گئی ہے۔ وائلڈلائف حکام کے مطابق اس نیلامی میں سب سے مہنگا پرمٹ تین لاکھ روپے میں فروخت ہوا، جو اس خطے میں جنگلی حیات کے منظم شکار سے متعلق پالیسی میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جارہی ہے۔
محکمہ وائلڈلائف پنجاب نے رواں سیزن کے آغاز کے ساتھ سالٹ رینج کے مختلف حصوں چکوال، جہلم اور اطراف کے علاقوں کو زونز اور کمیونٹی بیسڈ کنزروینسیز کی شکل میں مختص کیا ہے، جہاں شکار کا اجازت نامہ صرف نیلامی کے ذریعے جاری کیا جارہا ہے۔ ڈپٹی چیف وائلڈلائف رینجر سالٹ رینج زاہد علی کے مطابق گزشتہ برس پنجاب اُڑیال کی طرح تیتر کی زیادہ آبادی والے علاقوں کیلئے دو کمیونٹی بیسڈ کنزروینسیز رجسٹر کی گئی تھیں جن میں 36 زون شامل تھے، جبکہ اس سال نئے رولز کے مطابق 133 مزید زون۔مختص کیے گئے ہیں۔ان زونز کے لیے نئی سی بی سیز رجسٹرڈ کی جائیں گی۔
نیلامی کے پہلے روز 87 زونز کے اجازت نامے فروخت ہوئے، جن سے مجموعی طور پر 30 لاکھ 82 ہزار 700 روپے کی آمدن ہوئی۔ متعدد پرمٹس ایک لاکھ روپے سے زائد میں فروخت ہوئے، جبکہ سب سے زیادہ بولی تین لاکھ روپے رہی۔ حکام کے مطابق ایک زون میں اوسطاً نو پرمٹس جاری ہوں گے، اور ہر پرمٹ پر تین رائفلوں کے استعمال کی اجازت ہوگی، جن سے زیادہ سے زیادہ چھ تیتر شکار کیے جاسکیں گے۔
زاہد علی کے مطابق ہر زون میں شکار کا اجازت نامہ مقامی سروے کے بعد وہاں موجود آبادیِ تیتر کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں مقامی نمبرداروں سمیت کمیونٹی نمائندوں سے مشاورت کی گئی ہے تاکہ شکار کے بدلے مقامی سطح پر جنگلی حیات کے تحفظ اور نگرانی کو مضبوط بنایا جاسکے۔ نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد براہ راست مقامی کمیونٹیز کو دیا جائے گا، جو ان علاقوں میں افزائشِ نسل اور غیرقانونی شکار کی روک تھام کے لیے استعمال ہوگا۔
پالیسی کے مطابق تیتر کا شکار صرف اتوار کے روز کیا جاسکے گا۔ ہر پرمٹ سیزن میں ایک ہی بار شکار کی اجازت دیتا ہے اور وہ بھی صرف اسی زون میں جہاں سے اجازت نامہ حاصل کیا گیا ہو۔ دوسرے زون میں شکار کرنا ممنوع ہوگا۔ واضح رہے کہ عام حالات میں تیتر کے شکار پرمٹ کی سرکاری فیس ایک ہزار روپے ہے، تاہم اس بار منظم نیلامی کے ذریعے حاصل کی گئی بولیاں اس سے کہیں زیادہ رہیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام اس لیے اہم ہے کہ پنجاب کے پہاڑی علاقوں میں مقامی کمیونٹیز کو براہ راست تحفظاتی منصوبوں کا حصہ بنا کر پائیدار وائلڈلائف مینجمنٹ کو فروغ دیا جاسکے، جو خطے میں پہلی مرتبہ اس پیمانے پر عمل میں لایا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز