وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ترک وزیر توانائی کی میٹنگ؛ ترک پیٹرولیم کمپنی کا دفتر پاکستان میں کھولا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سٹی 42: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ترک وزیر توانائی الپرسلان بیرکتار کی وفود کی سطح پر میٹنگ ہوئی ۔ دو طرفہ تجارت 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف میں توانائی و مائننگ اہم کردار ادا کریں گے۔
میٹنگ میں کہا گیا کہ ترک پیٹرولیم کمپنی کا اسلام آباد میں دفتر اسی ماہ کھولا جائے گا ۔اسلام آباد دفتر میں دس ترک ماہرین سمیت مقامی عملہ بھی تعینات ہوگا۔پاکستان اور ترکیہ کا تیل و گیس اور مائننگ سیکٹر میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔
شمالی وزیرستان کے اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی اللہ دہشتگردوں کے حملے میں شہید
ترک وزیر توانائی نے کہا تیل و گیس تلاش میں ترکیہ کی پاکستان میں پہلے ٹھوس اور عملی منصوبوں کے آغاز ہوا ہے۔ترکیہ کی سرکاری مائننگ کمپنی کو پاکستان لانا ایک اہم سنگ میل ہے۔یہ میرا قلیل عرصے میں پاکستان کا تیسرا دورہ ہے۔تیل و گیس ایکسپلوریشن، انرجی انفراسٹرکچر اور مائننگ میں مزید مشترکہ منصوبے شروع ہوں گے
علی پرویز ملک نےکہا پاکستان ترکیہ سے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، وزیر پیٹرولیم: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان کے درمیان گہری دوستی دونوں ممالک کو قریب لا رہی ہے،۔
آپریشن بنیان مرصوص میں دشمن کو شکست دی، رافیل طیاروں کی صلاحیت صفر ثابت ہوئی; ایئر چیف
ایم ڈی او جی ڈی سی نے کہا ریکوڈک میں جدت اور ملک کا پہلا شیل گیس پائلٹ پراجیکٹ جاری ہے ۔او جی ڈی سی ایل نے ترک کمپنیوں کو ان کنونشنل ہائیڈروکاربن پروگرام میں شراکت کی دعوت دے دی
پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ ٹریڈنگ کمپنی قائم کرنے کے آپشن کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا گیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔