پنجاب میں پہلی بار تیتر کے شکار کے لیے 80 شکار گاہیں مختص
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
لاہور:
پنجاب میں پہلی بار تیتر کے شکار کے لیے 80 شکار گاہیں مختص کردی گئیں۔
قانونی شکار اور ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 80 فیصد حصہ مقامی برادریوں کو دیا جائے گا اور غیر قانونی شکار، خصوصاً اڑیال اور چنکارہ کے بارے میں مستند اطلاع دینے پر 10 ہزار روپے انعام رکھا گیا ہے۔
پنجاب میں تیتر کے شکار کا سیزن یکم دسمبر سے پندرہ فروری تک جاری رہے گا۔ شکار صرف اتوار کے روز، مخصوص نوٹیفائیڈ جگہوں پر اور لائسنس یا پرمٹ کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔
چیف وائلڈ لائف رینجر پنجاب مبین الہٰی کے مطابق اس سال ایک جامع اور نئی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے جس کا مقصد مقامی کمیونٹیز کو فیصلہ سازی، نگرانی اور تحفظ کے عمل کا مرکزی حصہ بنانا ہے۔
ان کے مطابق سالٹ رینج میں جنگلی حیات اور فطری ماحول کے امتزاج سے ایک بڑی ایکو ٹورازم کی صلاحیت موجود ہے جسے مربوط انتظام کے ساتھ بین الاقوامی سطح تک لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 80 شکارگاہوں میں محدود تعداد میں شکار پرمٹس نیلام جبکہ کمیونٹیز سے باضابطہ درخواستیں وصول کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدامات چیف منسٹر کمیونٹی کنزرویشن پروگرام کا حصہ ہیں جس کے تحت افزائش، ری وائلڈنگ اور مقامی منصوبوں کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے جائیں گے۔
مبین الہٰی نے بتایا کہ اس سال اڑیال کی بین الاقوامی ٹرافی ہنٹنگ کی 16 ٹرافیاں نیلام ہو چکی ہیں اور غیر ملکی شکاریوں نے سالٹ رینج میں جنگلی سور اور تیتر کے شکار میں خاص دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ان کے مطابق بہتر افزائش کی صورت میں مستقبل میں پرمٹس کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ حکومت کی جانب سے 15 ایکو لاجز بھی مقامی گروپوں کے حوالے کیے جائیں گے تاکہ سیاحت، قدرتی راستوں اور ماحولیاتی سرگرمیوں سے سال بھر آمدنی کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
دوسری جانب سالٹ رینج کی مختلف برادریوں نے باہمی مشاورت کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں کسی بھی صورت شکار کی اجازت نہیں دیں گے۔ تحصیل سوہاوہ کی یونین کونسل کوہالی سے آگے کے علاقے، جن میں تپہ پھڈیال، نتھوٹ، دیال، ڈھوک اور ملحقہ دیہات شامل ہیں، کے معتبرین نے فیصلہ کیا ہے کہ ان علاقوں میں ہر قسم کا شکار مکمل طور پر ممنوع رہے گا۔
مقامی رہائشی راجہ بشارت علی نے بتایا کہ یہ اصول سرکاری سیزن یا اجازت نامے سے ہٹ کر ایک مستقل سماجی اور علاقائی قانون کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری نوٹیفائیڈ زمینوں پر حکومت پرمٹ کے ساتھ شکار کروا سکتی ہے لیکن پرائیویٹ ملکیت، چراگاہوں، کھڑی فصلوں والے کھیتوں اور وہ پہاڑی علاقے جہاں مقامی لوگ مویشی چراتے ہیں، کسی بھی صورت شکار کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور مقامی آبادی اور مال مویشیوں کے لیے بھی سخت خطرناک ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق سالٹ رینج کا قدرتی ماحول تیتر، بٹیر اور دیگر جنگلی پرندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے اور یہی پرندے اس خطے کی پہچان اور ماحول کے توازن کا حصہ ہیں، اس لیے یہاں شکار کی اجازت نہ پہلے تھی، نہ اب ہے۔
ایک اور رہائشی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ رواں سال بارشوں نے مونگ پھلی، باجرہ اور دیگر فصلیں بری طرح متاثر کی ہیں اور جو تھوڑی بہت فصلیں بچی تھیں وہ جنگلی سوروں کے حملوں سے تباہ ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق وائلڈ لائف کی جانب سے سور مارنے پر پابندی کے باعث ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جس سے زرعی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جنگلی حیات کے تحفظ کے کارکن اور مشن اوئیرنس فاؤنڈیشن کے سربراہ فہد ملک کا کہنا ہے کہ جب تک قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح کے شکار پر پابندی نہیں لگتی، جنگلی حیات کے مکمل تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
ان کے مطابق قدیم دور میں شکار صرف ضرورت کے لیے کیا جاتا تھا لیکن اب اسے شوق کے طور پر جاری رکھنا مناسب نہیں۔ انہوں نے اس خیال سے بھی اختلاف کیا کہ قانونی شکار سے تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے، اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں جنگلی حیات کی اقسام اور ماحول تقریباً ایک جیسا ہے لیکن بھارت میں شکار پر سخت پابندی نے تحفظ کے نتائج کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تیتر کے شکار نے بتایا کہ ان کے مطابق جنگلی حیات سالٹ رینج کے لیے
پڑھیں:
لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
پنجاب میں بارشوں کے بعد لاہور کے ڈی ایچ اے میں بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا۔ رابی پیرزادہ نے بھی اپنے گھر کے قریب کھڑے پانی کی ویڈیو بناتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے شکوہ کر ڈالا۔
رابی پیرزادہ نے اپنے فیس بک پیج پر بارش کے بعد کھڑے ہوئے پانی کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس کا کیپشن ’’بارش کے بعد لاہور کی صورت حال اور مریم نواز کا ستھرا پنجاب‘‘ دیا ہے۔ اور ویڈیو پر لکھا ہے ’’مریم نواز صاحبہ، دیکھیں لاہور کے ساتھ کیا ہورہا ہے‘‘۔
رابی پیرزادہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’مریم نواز صاحبہ! یہ میں اپنے گھر میں کھڑی ہوں، جو کہ لاہور کے مہنگے ترین علاقے میں آتا ہے، یہ ڈی ایچ اے فیز ون ہے۔ میرے آفس ، میرے اسکول کے اندر بہت نقصان ہوا ہے۔ وہ شعیب صاحب جن سے آپ ساری انفارمیشن لیتی ہیں وہ پتا نہیں کس علاقے میں رہتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کا حال بہت خراب ہے۔ مجھے نہیں پتا وہ 960 گاڑیاں کہاں کام کررہی ہیں۔‘‘
https://www.facebook.com/RabiPirzadaMusic/videos/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85-%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D8%AA%DA%BE%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A8lahore-rain-suthrapunj/1344354571218376/رابی پیرزادہ نے بارش کے بعد علاقے کی زبوں حالی کا شکوہ کیا۔ بعد ازاں ویڈیو کے کمنٹس میں لکھا ’’یہ ویڈیو ڈی ایچ اے میں ضرور ریکارڈ ہوئی ہے، مگر بارش کے بعد تقریباً پورے لاہور کا یہی حال ہے۔ اس ویڈیو کا مقصد کسی مخصوص علاقے یا ادارے پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ اربابِ اختیار تک عوام کی مشکلات پہنچانا ہے تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔‘‘
رابی پیرزادہ کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ تاہم کئی صارفین نے کمنٹ کیا کہ شدید بارش کے بعد پانی کا کھڑا ہونا عام بات ہے، جو کہ فوری نہیں نکالا جاسکتا۔ لیکن چند گھنٹوں بعد پانی کی نکاسی کردی گئی۔