Express News:
2026-06-03@05:21:39 GMT

پنجاب میں پہلی بار تیتر کے شکار کے لیے 80 شکار گاہیں مختص

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

لاہور:

پنجاب میں پہلی بار تیتر کے شکار کے لیے 80 شکار گاہیں مختص کردی گئیں۔

قانونی شکار اور ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 80 فیصد حصہ مقامی برادریوں کو دیا جائے گا اور غیر قانونی شکار، خصوصاً اڑیال اور چنکارہ کے بارے میں مستند اطلاع دینے پر 10 ہزار روپے انعام رکھا گیا ہے۔

پنجاب میں تیتر کے شکار کا سیزن یکم دسمبر سے پندرہ فروری تک جاری رہے گا۔ شکار صرف اتوار کے روز، مخصوص نوٹیفائیڈ جگہوں پر اور لائسنس یا پرمٹ کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔

چیف وائلڈ لائف رینجر پنجاب مبین الہٰی کے مطابق اس سال ایک جامع اور نئی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے جس کا مقصد مقامی کمیونٹیز کو فیصلہ سازی، نگرانی اور تحفظ کے عمل کا مرکزی حصہ بنانا ہے۔

ان کے مطابق سالٹ رینج میں جنگلی حیات اور فطری ماحول کے امتزاج سے ایک بڑی ایکو ٹورازم کی صلاحیت موجود ہے جسے مربوط انتظام کے ساتھ بین الاقوامی سطح تک لایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 80 شکارگاہوں میں محدود تعداد میں شکار پرمٹس نیلام جبکہ کمیونٹیز سے باضابطہ درخواستیں وصول کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدامات چیف منسٹر کمیونٹی کنزرویشن پروگرام کا حصہ ہیں جس کے تحت افزائش، ری وائلڈنگ اور مقامی منصوبوں کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے جائیں گے۔

مبین الہٰی نے بتایا کہ اس سال اڑیال کی بین الاقوامی ٹرافی ہنٹنگ کی 16 ٹرافیاں نیلام ہو چکی ہیں اور غیر ملکی شکاریوں نے سالٹ رینج میں جنگلی سور اور تیتر کے شکار میں خاص دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ان کے مطابق بہتر افزائش کی صورت میں مستقبل میں پرمٹس کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ حکومت کی جانب سے 15 ایکو لاجز بھی مقامی گروپوں کے حوالے کیے جائیں گے تاکہ سیاحت، قدرتی راستوں اور ماحولیاتی سرگرمیوں سے سال بھر آمدنی کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

دوسری جانب سالٹ رینج کی مختلف برادریوں نے باہمی مشاورت کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں کسی بھی صورت شکار کی اجازت نہیں دیں گے۔ تحصیل سوہاوہ کی یونین کونسل کوہالی سے آگے کے علاقے، جن میں تپہ پھڈیال، نتھوٹ، دیال، ڈھوک اور ملحقہ دیہات شامل ہیں، کے معتبرین نے فیصلہ کیا ہے کہ ان علاقوں میں ہر قسم کا شکار مکمل طور پر ممنوع رہے گا۔

مقامی رہائشی راجہ بشارت علی نے بتایا کہ یہ اصول سرکاری سیزن یا اجازت نامے سے ہٹ کر ایک مستقل سماجی اور علاقائی قانون کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری نوٹیفائیڈ زمینوں پر حکومت پرمٹ کے ساتھ شکار کروا سکتی ہے لیکن پرائیویٹ ملکیت، چراگاہوں، کھڑی فصلوں والے کھیتوں اور وہ پہاڑی علاقے جہاں مقامی لوگ مویشی چراتے ہیں، کسی بھی صورت شکار کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور مقامی آبادی اور مال مویشیوں کے لیے بھی سخت خطرناک ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق سالٹ رینج کا قدرتی ماحول تیتر، بٹیر اور دیگر جنگلی پرندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے اور یہی پرندے اس خطے کی پہچان اور ماحول کے توازن کا حصہ ہیں، اس لیے یہاں شکار کی اجازت نہ پہلے تھی، نہ اب ہے۔

ایک اور رہائشی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ رواں سال بارشوں نے مونگ پھلی، باجرہ اور دیگر فصلیں بری طرح متاثر کی ہیں اور جو تھوڑی بہت فصلیں بچی تھیں وہ جنگلی سوروں کے حملوں سے تباہ ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق وائلڈ لائف کی جانب سے سور مارنے پر پابندی کے باعث ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جس سے زرعی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے کارکن اور مشن اوئیرنس فاؤنڈیشن کے سربراہ فہد ملک کا کہنا ہے کہ جب تک قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح کے شکار پر پابندی نہیں لگتی، جنگلی حیات کے مکمل تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

ان کے مطابق قدیم دور میں شکار صرف ضرورت کے لیے کیا جاتا تھا لیکن اب اسے شوق کے طور پر جاری رکھنا مناسب نہیں۔ انہوں نے اس خیال سے بھی اختلاف کیا کہ قانونی شکار سے تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے، اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں جنگلی حیات کی اقسام اور ماحول تقریباً ایک جیسا ہے لیکن بھارت میں شکار پر سخت پابندی نے تحفظ کے نتائج کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تیتر کے شکار نے بتایا کہ ان کے مطابق جنگلی حیات سالٹ رینج کے لیے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟