ترکیے پاکستان میں جنگی ڈرون تیارکرنےکیساتھ اپنےلڑاکا طیاروں کے پروگرام میں بھی شامل کرنا چاہتا ہے، بلوم برگ
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق ترکیہ پاکستان میں جنگی ڈرون تیار کرنے کی فیکٹری قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کو اپنے ففتھ جنریشن لڑاکا طیاروں کے منصوبے میں شامل کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
بلوم برگ کا کہنا ہے کہ ترکیہ بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی دفاعی صنعت کو فروغ دینے کے ہدف کے تحت پاکستان میں جنگی ڈرون کی اسمبلنگ کے لیے ایک فیکٹری قائم کرنا چاہتا ہے۔
معاملے سے واقف ترک حکام کے مطابق اکتوبر کے بعد سے اس منصوبے پر ہونے والی بات چیت میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔
حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ منصوبے کے تحت اسٹیلتھ اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرون کے پرزے ترکیہ سے پاکستان بھیجے جائیں گے، جہاں ان کی اسمبلنگ کی جائے گی۔
بلوم برگ کے مطابق ترکیہ اور پاکستان دونوں نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
جریدے کا مزید کہنا ہے کہ ترکیہ مشترکہ پیداواری معاہدے کے تحت پاکستانی بحریہ کے لیے جنگی جہازوں کی تیاری پر بھی کام کر رہا ہے، جب کہ وہ پاکستان کے متعدد ایف-16 طیاروں کو اپ گریڈ بھی کر چکا ہے۔ اب ترکیہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے ففتھ جنریشن لڑاکا طیارہ پروگرام کا بھی حصہ بنے۔
رپورٹ کے مطابق ترکیہ نے رواں سال متعدد ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدوں کا اعلان کیا ہے، جن میں انڈونیشیا کی جانب سے لڑاکا طیاروں کا آرڈر بھی شامل ہے۔ اسی طرح ترکیہ سعودی عرب اور شام کو مزید اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے بھی رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :