اسلام آباد ریڈزون، 2 زندگیاں وی آئی پی کلچر کی بھینٹ چڑھ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) ریڈ زون میں خوفناک حادثہ پیش آیاہے ، ابوذر آصف نامی کم عمر ڈرائیور نے تیزرفتاروی ایٹ گاڑی اسکوٹی چلانے والی لڑکیوں پرچڑھا دی ، دونوں لڑکیاں جاں بحق ہوگئیں، ڈرائیور کو موقع سے گرفتار کرلیا گیا، عدالت نے کمسن ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا، جاں بحق ہونے والی لڑکیوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
تھانہ سیکرٹریٹ میں عدنان تجمل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ متن مقدمہ کے مطابق مدعی کی بہن سمرین اپنی دوست کے ہمراہ پی این سی اے سے واپس آرہی تھی کہ سیکریٹریٹ چوک کے پاس تیزرفتاروی ایٹ گاڑی نے انہیں ٹکر مار دی جس سے سمرین اور تابندہ بتول شدید زخمی ہوگئیں۔دونوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔دونوں دوران علاج جاں بحق ہوگئیں۔غفلت ،لاپرواہی اورتیزرفتاری سے گاڑی چلانے والےڈرائیورابوذرکوپولیس نے گرفتارکرلیا۔پولیس نے گرفتارڈرائیورکومقامی عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے ملزم کا چارروزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرلیا۔حادثےمیں جاں بحق ہونے والی دونوں لڑکیوں کی نماز جنازہ جناح گارڈن میں واقع امام بارگاہ میں ادا کرنے کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین کردی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔