Islam Times:
2026-07-24@10:32:43 GMT

نواف سلام، صیہونیوں کا ترجمان!

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

نواف سلام، صیہونیوں کا ترجمان!

اسلام ٹائمز: لبنان کے وزیراعظم نے "نومبر 2024ء جنگ بندی" پر نظارت کرنے والی کمیٹی کے لیے چند افراد کو نمائندے کے طور پر پیش کیا ہے جبکہ اس کمیٹی میں اسرائیل کے نمائندے بھی موجود ہیں۔ یوں نواف سلام کی سربراہی میں لبنان حکومت نے حتی ابراہیم معاہدے میں شمولیت اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے مذاکرات کا باقاعدہ دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اب بھی جنوبی لبنان میں پانچ مقامات پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اسرائیلی فوج آئے دن لبنان کے مختلف علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنا کر لبنانی شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف ہے۔ تحریر: علی احمدی

لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے العربیہ نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس سال کے آخر تک حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کر دیا جائے گا اور ملک کے جنوبی حصے کو تمام ہتھیاروں سے عاری علاقہ بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بنائی گئی مشترکہ "سویلین" کمیٹی میں لبنان حکومت کی شراکت داری کو بھی سراہا اور اسے مفید قرار دیا۔ نواف سلام کا حالیہ بیان حزب اللہ لبنان کی جانب سے "غاصبانہ قبضے کے خاتمے تک مسلح جدوجہد" پر مبنی حکمت عملی سے واضح تضاد رکھتی ہے۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اور لبنان میں موجود صیہونی دشمن کے ففتھ کالم نے اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ لبنان پر دباو بڑھانے کے لیے جنوبی علاقوں میں تعمیر نو کا کام روک رکھا ہے۔
 
اس اقدام کا مقصد وہاں کے شہریوں کو حزب اللہ لبنان کے خلاف اکسا کر مارچ 2026ء میں منعقد ہونے والے پارلیمانی الیکشن میں حزب اللہ کی سیاسی پوزیشن کمزور کرنا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تازہ ترین تقریر میں حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے حامی اندرونی اور بیرونی عناصر کو مخاطب قرار دیا اور خبردار کیا کہ "دنیا کی کوئی طاقت اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے پر قادر نہیں ہے"۔ لبنان آرمی نے امریکہ کی سربراہی میں مغربی ممالک کے دباو سے متاثر ہو کر اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک چند مراحل پر مشتمل منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ اس میں موجودہ سال 2025ء کے آخر تک ایک ٹائم ٹیبل کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت اس سال کے آخر تک ملک کا جنوبی حصہ جوزف عون حکومت سے غیر متعلقہ ہر اسلحے سے عاری کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
 
شیطانوں سے مذاکرات
لبنان کے وزیراعظم نے "نومبر 2024ء جنگ بندی" پر نظارت کرنے والی کمیٹی کے لیے چند افراد کو نمائندے کے طور پر پیش کیا ہے جبکہ اس کمیٹی میں اسرائیل کے نمائندے بھی موجود ہیں۔ یوں نواف سلام کی سربراہی میں لبنان حکومت نے حتی ابراہیم معاہدے میں شمولیت اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے مذاکرات کا باقاعدہ دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اب بھی جنوبی لبنان میں پانچ مقامات پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اسرائیلی فوج آئے دن لبنان کے مختلف علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنا کر لبنانی شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف ہے۔ لبنانی وزیراعظم کے حالیہ بیان کو بھی اسلامی مزاحمت کے خلاف اور اس سے دشمنی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر اعتراف کیا کہ اسرائیل سے اس وقت جو مذاکرات انجام پا رہے ہیں وہ "فوجی سطح" سے عبور کر چکے ہیں۔
 
لبنان کے وکیل سیمون کرم جسے لبنانی وزیراعظم کا قریبی تصور کیا جاتا ہے پارلیمنٹ کے اسپیکر کی اطلاع کے بغیر اسرائیل سے مذاکرات میں شامل کر دیا گیا ہے اور اسے جنگ بندی پر نظارت کرنے والی کمیٹی کا سربراہ بھی بنا دیا گیا ہے۔ یہ شخص فوجی نہیں ہے اور ماضی میں بھی اس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف حلقے لبنان حکومت کی جانب سے اسرائیل سے جنگ بندی اور فوجی امور سے ہٹ کر دیگر امور پر بات چیت شروع ہونے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔ حال ہی میں لبنان حکومت نے تقریباً 90 ملین ڈالر لاگت کا فوجی سازوسامان خریدنے کے لیے امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک سے معاہدہ کیا ہے۔ اسے بھی حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے لیے انجام پانے والی کوششوں کا ایک حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
 
دشمن کے خلاف مزاحمت
لبنانی وزیراعظم نواف سلام اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا واحد حامی نہیں ہے۔ لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجی نے بھی سعودی عرب کے العربیہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ "حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اس کا ملٹری ونگ ختم کر دینے کا مطالبہ محض بین الاقوامی مطالبہ نہیں بلکہ ایک لبنانی مطالبہ بھی ہے، میں نے یہ بات کل اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ایک وفد کو بھی کہی ہے۔" یوسف رجی کا بیان زمینی حقائق سے کوسوں دور ہے۔ ابھی چند ماہ پہلے ہی منعقد ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں حزب اللہ لبنان کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے اور یہ کامیابی خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ نمایاں تھی جو جنگ زدہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لبنانی شہریوں کے دل میں حزب اللہ کا کیا مقام ہے۔ 1975ء میں لبنان آرمی کو اسرائیل سے بدترین شکست ہوئی جبکہ 2001ء میں حزب اللہ نے اسے ملک سے نکال باہر کیا تھا۔
 
صیہونیوں کے توسیع پسندانہ عزائم
غاصب صیہونی رژیم سے مذاکرات پر لبنان حکومت اور حزب اللہ لبنان کے درمیان اختلاف سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو اسرائیلی فوج لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے چاپلوسانہ بیانات کے باوجود لبنان کی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کل ہی ایک بیانیہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے: "کل سے شعبا گارڈنز (لبنان کی سرزمین) اور جبل الشیخ (شام کی سرزمین) میں جنگی مشقیں شروع کر دی جائیں گی۔" تل ابیب کی فوجی سرگرمیاں مغربی ایشیا خطے میں تناو کی شدت میں اضافہ کرنے کا جدید ترین ہتھکنڈہ قرار دیا جا رہا ہے۔ صیہونی رژیم کی جنگی کابینہ چند مراحل کے تحت مقبوضہ سرزمینوں پر اپنی فوج کا قبضہ مزید مضبوط بنانے جا رہی ہے۔ اس نے پہلے بفر زون تشکیل دینے کے بہانے شام اور لبنان میں قدم رکھے اور اب دمشق اور بیروت حکومتوں کی ناتوانی کے بہانے اپنا قبضہ جاری رکھا ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حزب اللہ لبنان کو غاصب صیہونی رژیم کو غیر مسلح کرنے میں لبنان حکومت اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کر اسرائیلی فوج میں حزب اللہ اور اسرائیل اسرائیل سے نواف سلام لبنان کے قرار دیا کرنے کے دیا جا اور اس کے لیے کیا ہے گیا ہے ہے اور ہوا ہے

پڑھیں:

’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان

پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔

گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟

عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔

ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم