آئی ایم ایف نے پاکستان کیلیے 1.3 ارب ڈالر کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) نے پاکستان کیلیے 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس واشنگٹن ہوا جس میں پاکستان کے لیے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دی گئی۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کو سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (آی ایف ایف) پروگرام کے تحت قرض کی تیسری قسط کی مد میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم ملے گی۔
ذرائع کے مطابق 1.
پاکستان کو ای ایف ایف پروگرام کی دو اقساط پہلے ہی جاری کی جا چکی ہیں۔
اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے دوسرے اقتصادی جائزے کی بھی منظوری دے دی اور آئی ایم ایف نےجاری قرض پروگرام پرعملدرآمد کو مضبوط قراردیدیا ہے جبکہ حکومت نے معاشی اصلاحات پرعمل درآمد جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
پاکستان کیلئے ای ایف ایف موجودہ قرض پروگرام کی تیسری قسط منظور ہوئی، اس سے قبل پاکستان نے 37 ماہ کا موجودہ قرض پروگرام ستمبر 2024 میں حاصل کیا تھا۔
ای ایف ایف پروگرام کی ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط ستمبر 2024 میں ملی جبکہ دوسری ایک ارب ڈالر کی قسط مئی 2025 میں ملی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف قرض پروگرام ارب ڈالر کی کی منظوری ایف ایف
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔