پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بیان کو بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت کے بیشتر مسائل کی جڑ پاکستان کی مسلح افواج ہیں۔ اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اسے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اس کے تمام ادارے، بشمول مسلح افواج، قومی سلامتی کے مضبوط ستون ہیں۔ یہ ادارے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مئی 2025 میں پاکستانی افواج نے پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور ذمہ داری کے ساتھ بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا، اور کوئی پروپیگنڈا اس حقیقت کو بدل نہیں سکتا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارتی قیادت کی یہ مہم خطے میں اپنے اقدامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، خاص طور پر پاکستان میں بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے۔ ایسے اشتعال انگیز بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت خطے میں امن، ہم آہنگی اور استحکام کی پرواہ نہیں کرتا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارتی قیادت کو پاکستان کی افواج پر بے بنیاد تبصرے کرنے کے بجائے انتہاپسندانہ ہندوتوا نظریے کی سنگینی کو سمجھنا چاہیے، جس نے بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں قتل و غارت، ماورائے عدالت کارروائیوں اور عبادت گاہوں کی تباہی کو جنم دیا ہے۔
اندرابی نے کہا کہ پاکستان بقائے باہمی، مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور قومی مفادات و خودمختاری کے تحفظ کے لیے متحد، مضبوط اور پرعزم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہ بھارت کہا کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا