پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستانی افواج سے متعلق بیان مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بیان کو بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت کے بیشتر مسائل کی جڑ پاکستان کی مسلح افواج ہیں۔ اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اسے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اس کے تمام ادارے، بشمول مسلح افواج، قومی سلامتی کے مضبوط ستون ہیں۔ یہ ادارے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مئی 2025 میں پاکستانی افواج نے پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور ذمہ داری کے ساتھ بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا، اور کوئی پروپیگنڈا اس حقیقت کو بدل نہیں سکتا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارتی قیادت کی یہ مہم خطے میں اپنے اقدامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، خاص طور پر پاکستان میں بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے۔ ایسے اشتعال انگیز بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت خطے میں امن، ہم آہنگی اور استحکام کی پرواہ نہیں کرتا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارتی قیادت کو پاکستان کی افواج پر بے بنیاد تبصرے کرنے کے بجائے انتہاپسندانہ ہندوتوا نظریے کی سنگینی کو سمجھنا چاہیے، جس نے بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں قتل و غارت، ماورائے عدالت کارروائیوں اور عبادت گاہوں کی تباہی کو جنم دیا ہے۔
اندرابی نے کہا کہ پاکستان بقائے باہمی، مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور قومی مفادات و خودمختاری کے تحفظ کے لیے متحد، مضبوط اور پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔