ایرانی عوام کی قسمت کھل گئی، ملک میں سونے کا اہم ذخیرہ دریافت
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ایران نے ملک کی بڑی سونے کی کانوں میں سے ایک میں سونے کے اہم ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دریافت مشرقی صوبے جنوبی خراسان میں واقع نجی ملکیت والی شادان گولڈ مائن میں ہوئی ہے، جسے ملک کی اہم ترین کانوں میں شمار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: مسلسل اضافے کے بعد سونا کس قیمت پر فروخت ہو رہا ہے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے ذخائر کی باضابطہ توثیق وزارتِ صنعت و تجارت نے کردی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مشرق میں واقع شادان گولڈ مائن کے ثابت شدہ ذخائر میں اس وسیع نئی رگ کی دریافت کے بعد نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ نئی دریافت میں 7.
ایران نے اپنے قومی سونے کے ذخائر کی درست مقدار سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی، تاہم اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے گزشتہ برسوں میں سونے کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ستمبر میں ایران کے مرکزی بینک کے گورنر نے کہا تھا کہ ایران دنیا کے پانچ بڑے سونا خریدنے والے مرکزی بینکوں میں شامل رہا ہے۔
مقامی میڈیا نے مرکزی بینک کی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سونے کے ذخائر میں اضافہ عالمی پابندیوں کے دباؤ میں معیشت کو سہارا دینے میں مدد کرے گا۔
ایران میں اس وقت 15 سونے کی کانیں موجود ہیں، جن میں شمال مغرب میں واقع زرشوران سب سے بڑی کان ہے۔
مزید پڑھیں: فرانس میں گھر کے مالک کو باغیچے میں دبایا گیا 8 لاکھ ڈالر مالیت کا سونا مل گیا
ایران کی معیشت امریکی اور مغربی پابندیوں کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔ امریکا اور مغربی ملک ایران پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو عسکری شکل دینا چاہتا ہے، جس کی تہران مسلسل تردید کرتا ہے۔
سونا ایرانی شہریوں کے لیے محفوظ سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی بن چکا ہے، کیونکہ تیزی سے بڑھتی مہنگائی اور ایرانی ریال کی مسلسل گراوٹ نے عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایران ایرانی حکومت سونا دریافت قسمت گرتی معیشت وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران ایرانی حکومت سونا دریافت گرتی معیشت وی نیوز کیا ہے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔