لاہور (سپورٹس رپورٹر) ایران کی فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ تہران اگلے ہفتے واشنگٹن میں ہونے والی فٹبال ورلڈکپ 2026ء فائنلز کی ڈرا تقریب کا بائیکاٹ کرے گا کیونکہ امریکہ نے وفد کے متعدد ارکان کو ویزے جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ایرانی فٹبال فیڈریشن کے ترجمان نے بتایا کہ ہم نے فیفا کو آگاہ کر دیا ہے کہ کیے گئے فیصلوں کا کھیل سے کوئی تعلق نہیں اور ایرانی وفد کے ارکان ورلڈکپ ڈرا میں شرکت نہیں کریں گے۔ ایرانی سپورٹس ویب سائٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے وفد کے کئی ارکان، جن میں فیڈریشن کے صدر مہدی تاج بھی شامل ہیں، کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے اس فیصلے کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیفا کے سربراہ کو بتایا ہے کہ یہ مکمل طور پر سیاسی مؤقف ہے اور فیفا کو چاہیے کہ وہ امریکہ کو اس رویے سے روکنے کا حکم دے۔ وفد کے 4 ارکان، جن میں کوچ امیر غالب بھی شامل ہیں، کو 5 دسمبر کو ہونے والے ڈرا کیلئے ویزے جاری کر دیے گئے ہیں۔ ایران نے فیفا ورلڈکپ 2026ء کیلئے کوالیفائی کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وفد کے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی