ایران نے جنگ میں امریکااور اسرائیل کو شکست دی،خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-01-11
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایرانی قوم نے حالیہ 12 روزہ جنگ میں امریکا اور صیہونی رجیم کو واضح اور تاریخی شکست دی، دشمن پوری تیاری کیساتھ آیا، شر پھیلایا لیکن آخرکار شکست کھا کر خالی ہاتھ واپس لوٹ گیا۔ سپریم لیڈر نے مزید کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے اس جنگ کے لیے 20 سال تک منصوبہ بندی کی تھی لیکن ایرانی دفاعی نظام اور قومی مزاحمت کے سامنے وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سرکاری ٹی وی پر اہم خطاب کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ غزہ اور لبنان کی مزاحمتی تحریکیں دراصل ایرانی تحریک کی اقدار اور اصولوں پر قائم ہیں، جنہوں نے خطے میں ظلم کے خلاف مضبوط محاذ بنایا ہے۔ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایرانی قوم کی استقامت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور علاقائی مزاحمتی قوتیں ایرانی نظریے سے تقویت پا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔