امریکی ویزا تنازع، ایران کا فیفا ورلڈ کپ ڈرا کے بائیکاٹ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
ایران (ویب ڈیسک) فٹبال فیڈریشن نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ تہران اگلے ہفتے واشنگٹن میں ہونے والی 2026 فٹبال ورلڈکپ فائنلز کی ڈرا تقریب کا بائیکاٹ کرے گا کیونکہ امریکا نے وفد کے متعدد ارکان کو ویزا جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایرانی فٹبال فیڈریشن کے ترجمان نے سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ ہم نے فیفا کو آگاہ کر دیا ہے کہ کیے گئے فیصلوں کا کھیل سے کوئی تعلق نہیں اور ایرانی وفد کے ارکان ورلڈکپ ڈرا میں شرکت نہیں کریں گے۔
ایرانی اسپورٹس ویب سائٹ ’ورزش تھری‘ نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے وفد کے کئی ارکان، جن میں فیڈریشن کے صدر مہدی تاج بھی شامل ہیں، کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے اس فیصلے کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیفا کے سربراہ کو بتایا ہے کہ یہ مکمل طور پر سیاسی مؤقف ہے اور فیفا کو چاہیے کہ وہ امریکا اس رویے سے روکنے کا حکم دے۔
ایرانی اسپورٹس ویب کے مطابق وفد کے 4 ارکان، جن میں کوچ امیر غالب بھی شامل ہیں، کو 5 دسمبر کو ہونے والے ڈرا کے لیے ویزے جاری کر دیے گئے ہیں۔
ایران نے مارچ میں فیفا ورلڈکپ 2026 کے لیے کوالیفائی کیا تھا، جس سے انہیں مسلسل چوتھی اور مجموعی طور پر ساتویں بار شرکت یقینی بنی۔
ایران اب تک ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہیں کر سکا، تاہم 1998 کے فرانس میں ہونے والے ورلڈ کپ میں اس وقت بے حد خوشی منائی گئی جب گروپ میچ میں ایران نے امریکا کو 2-1 سے شکست دی تھی، تاہم 2022 کے ایڈیشن میں امریکا نے ایران کو 1-0 سے شکست دے کر اس کا بدلہ چکا دیا۔
امریکا ، کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ فیفا ورلڈکپ 2026 کی میزبانی کر رہا ہے۔
دوسری جانب، امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 4 دہائیوں سے کشیدگی برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے جوہری مذاکرات اپریل میں شروع ہوئے تھے، جن میں تہران اور واشنگٹن ایران کے یورینیم افزودگی کے حق پر اختلاف کا شکار رہے، جسے ایران اپنا ناقابلِ تنسیخ حق قرار دیتا ہے۔
لیکن یہ مذاکرات اس وقت ختم ہوگئے جب جون کے وسط میں اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی بمباری مہم شروع کی، جس کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی اور امریکا بھی مختصر طور پر ایران کی اہم جوہری تنصیبات پر حملوں کے ساتھ اس میں شامل ہو گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔