data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فٹبال کی دنیا میں کرشماتی اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کے مداحوں کے لیے خوشخبری ہے کیونکہ فیفا نے ان پر لگائی گئی تین میچوں کی پابندی میں سے دو میچوں کی سزا معطل کر دی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد رونالڈو ورلڈ کپ 2026 کے افتتاحی میچ میں حصہ لے سکیں گے، جس کے لیے دنیا بھر کے مداح بے صبری سے فیفا کے اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ رونالڈو کو رواں ماہ آئرلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائر میں آئرش ڈیفینڈر دارا او شی پر کہنی مارنے کے الزام میں پہلا ریڈ کارڈ ملا تھا، اور فیفا نے ان پر تین میچوں کی پابندی عائد کی تھی۔ ایک میچ کی سزا رونالڈو نے آرمینیا کے خلاف میچ میں حصہ نہ لے کر پوری کر لی تھی۔

اب فیفا نے باقی دو میچوں کی پابندی ایک سال کی عبوری مدت کے لیے معطل کر دی ہے، اور شرط یہ رکھی ہے کہ اگر رونالڈو نے آئندہ ایک سال میں اسی نوعیت کی خلاف ورزی کی تو دونوں معطل شدہ میچوں کی سزا فوری طور پر بحال ہو جائے گی۔

40 سالہ کرسٹیانو رونالڈو اس وقت تک چھٹے ورلڈ کپ کی تیاری کر رہے ہیں، اور ان کا خواب ہے کہ وہ عالمی فٹبال کی سب سے بڑی چمپیئن شپ جیتیں۔ ورلڈ کپ 2026 کا ڈرا 5 دسمبر کو واشنگٹن کے جان ایف کینیڈی سینٹر میں ہوگا، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو بھی موجود ہوں گے۔

فیفا کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کے 104 میچز اتنے دلچسپ اور سنسنی خیز ہوں گے جتنے سپر باؤلز، جس سے فٹبال کے شائقین میں جوش و خروش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ رونالڈو کی پابندی کی معطلی اور فیفا کے دلچسپ بیان نے مداحوں کو پہلے سے کہیں زیادہ پرجوش کر دیا ہے، اور ورلڈ کپ کے آغاز کا انتظار مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی پابندی میچوں کی ورلڈ کپ فیفا کے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی