پائیدار ٹرانسپورٹ ماحول دوست مستقبل کی بنیاد ہے‘گورنر
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے پائیدار ٹرانسپورٹ کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ پائیدار ٹرانسپورٹ جدید شہروں کی ضرورت اور ماحول دوست مستقبل کی بنیاد ہے، صاف، محفوظ اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بناتا ہے، سندھ خصوصاً کراچی میں گرین ٹرانسپورٹ، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے، گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ کاربن اخراج میں کمی اور ٹریفک دباؤ کم کرنے کے لیے عالمی معیار کی ٹرانسپورٹ پالیسیوں کو ترجیح دینا ہوگی، پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ میں سرکاری اداروں، نجی شعبے اور عوام کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پائیدار ٹرانسپورٹ
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔