data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

شہدادپور (نمائندہ جسارت) گیارہویں جماعت کے نتائج پر طلبا مشتعل، گورنمنٹ ڈگری کالج کے طلبا کا بورڈ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ،شہید بینظیر آباد بورڈ پر ‘نتائج میں ہیر پھیر’ کا الزام، پرچے دوبارہ چیک کروانے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق شہید بینظیر آباد انٹرمیڈیٹ بورڈ کے تحت گیارہویں جماعت کے حالیہ امتحانی نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج شہدادپور کے طلباء نے ناصر کھوسو، یونس سنجرانی اور روشن خاصخیلی کی قیادت میں شدید احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔بدھ کے روز کالج کے طلبا نے بڑی تعداد میں پریس کلب پر جمع ہو کر بورڈ انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور اپنے امتحانی نتائج کو مسترد کر دیا۔ احتجاجی طلباء نے الزام لگایا ہے کہ ان کے نتائج میں “بڑے پیمانے پر ہیر پھیر” کی گئی ہے جس کی وجہ سے میرٹ پر آنے والے طلبا بھی کم نمبروں سے فیل قرار دیے گئے ہیں۔ مظاہرین نے حکام بالا سے فوری طور پر مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے امتحانی پرچوں کو از سرِ نو غیر جانبدارانہ طور پر چیک کروایا جائے تاکہ انہیں انصاف مل سکے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے طلباء کہا کہ “ہم نے پوری محنت سے تیاری کی تھی، لیکن بورڈ نے ہمارے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ یہ ہمارے نتائج نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہم اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک ہمارے پرچے دوبارہ چیک نہیں کیے جاتے۔احتجاجی طلبا نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات کو جلد از جلد پورا نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے دھرنا دیں گے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی