Juraat:
2026-07-24@01:32:35 GMT

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

 

آئندہ تین ماہ میں 25شہروں میں احتجاجی جلسے اور دھرنے کریں گے ، عوام کو منظم کرنے کے بعد جماعت اسلامی پاکستان کو چند لوگوں کے ہاتھوں سے نجات دلائے گی، آئین کی بالادستی و تحفظ کیلئے تحریک چلائیں گے

چند لوگوں کو ان کے منصب سے معزول کرکے نظام بدلیں گے ، عدلیہ کے جعلی نظام کو ختم کریں گے ، چند لوگ آئین میں تبدیلیاں کرکے اپنی لوٹ مار کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن انہیں 25 کروڑ عوام کے سامنے جوابدہ بنائیں گے

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے بدل دو نظام تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی جلسوں اور دھرنوں کا اعلان کردیا۔مینار پاکستان لاہور پر جماعت اسلامی کے تین روزہ کل پاکستان اجتماع عام میں شریک لاکھوں شرکاء سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ چند لوگوں کو ان کے منصب سے معزول کرکے نظام بدلیں گے ۔ عدلیہ کے جعلی نظام کو ختم کریں گے ، چند لوگ آئین میں تبدیلیاں کرکے اپنی لوٹ مار کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن انہیں 25 کروڑ عوام کے سامنے جوابدہ بنائیں گے ، آئین کی بالادستی و تحفظ کیلئے تحریک چلائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ میں 25 شہروں میں احتجاجی جلسے اور دھرنے کریں گے ، عوام کو منظم کرنے کے بعد جماعت اسلامی پاکستان کو چند لوگوں کے ہاتھوں سے نجات دلائے گی۔ ہم کسی فیلڈ مارشل کے نظام کو نہیں مانتے ، ہمیں اللہ کا نظام چاہئے ۔ جماعت اسلامی اب کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی، پاکستان میں ٹی ایل پی لاکھوں ووٹ لینے والی پارٹی ہے ، اس پر سے پابندی ہٹنی چاہئے اور عمران خان کو بھی رہا ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور انتخابات کے نام پر فراڈ بند ہونا چاہئے ۔ مقامی حکومتوں کو مالیاتی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔ بلدیاتی نظام کو آئینی تحفظ ملنا چاہئے ۔ پنجاب میں جعلی بلدیاتی ایکٹ کیخلاف تحریک شروع کریں گے ۔ حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی کے 9 ٹاؤنز میں تعمیر و ترقی کا سفر شروع کردیا، ہمیں میئر شپ سے محروم کیا گیا لیکن اسکے باوجود ہم وہاں اختیارات سے بڑھ کر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گی مگر ہم قوم پرست نہیں بنیں گے ، پاکستان پر چند لوگوں کا قبضہ ہے ، پاکستان یہاں بسنے والی ہر قومیت کا ہے ، ملک میں عدل کا نظام ہونا چاہئے ، مسائل پر بات کریں گے لیکن پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ ہماری اصل طاقت ہمارے نظریے اور نظم و ضبط میں ہے ، پوری یکسوئی سے آگے بڑھیں گے تو اسٹیبلیشمنٹ یا کوئی اور طاقت سامنے نہیں آسکے گی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات کو درست کیا جائے ، افغانستان بھی اس بات کو یقینی بنائے کہ اسکی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو، انہوں نے کہ ہم چاہتے ہیں پاکستان کی خارجہ پالسی آزاد ہو، امریکا کی غلامی اختیار کرکے ہم نے پاکستان کا بہت نقصان کرلیا، حکومت ٹرمپ کی خوشامد میں فلسطین کاز سے پیچھے ہٹ رہی ہے ، ہم کسی دو ریاستی حل کو نہیں مانتے ، ٹرمپ کا امن منصوبہ مسترد کرتے ہیں، حکمرانوں نے ابراہم اکارڈ کا حصہ بننے کا سوچا تو یہ لاکھوں لوگ انہیں عبرت کا نشان بنادیں گے ۔حافظ نعیم نے کہا کہ کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ، حکومت اپنا فریضہ انجام دے ، پورا پاکستان کشمیریوں کا بیس کیمپ ہے ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہئے ، حکمرانوں نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر کوئی سودے بازی کی تو قوم معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے ’زی کنیکٹ‘پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ہنر سے آراستہ کریں گے ، اسٹارٹ اپس اور مائیکرو فنانسنگ کے ذریعے نوجوانوں کی مدد کریں گے ، کھیلوں میں نوجوانوں کو آگے بڑھانے کیلئے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کریں گے ۔ جین زی کو ساتھ لیکر چلیں گے اور انکی اخلاقی تربیت بھی کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے اعلان تک ہمارا کوئی امیدوار نہیں ہے ، پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں نظم و ضبط کا فقدان ہے ، نظم و ضبط کے بغیر تحریکیں ختم ہوجاتی ہیں، جس کو جماعت نامزد کرے گی وہی ہمارا امیدوار ہوگا۔اجتماع عام سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں لیاقت بلوچ، مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ، عنایت الرحمن خان سمیت مختلف ممالک سے آئے ہوئے اسلامی تحریکوں کے قائدین نے بھی خطاب کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان