بھارتی فضائیہ کو ایک اور دھچکا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
ریاض احمدچودھری
بھارت کا لڑاکا طیارہ تیجس دبئی ایئرشو کے دوران کرتب دکھاتے گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں پائلٹ بھی ہلاک ہو گیا۔ تیجس طیارہ دبئی ایئرشو کے دوران صلاحیتوں کا حتمی مظاہرہ کرتے ہوئے کریش ہوا، ابتدائی رپورٹ کے مطابق لڑاکا طیارے میں تکنیکی خرابیاں تھیں۔بتایا گیا ہے کہ تکنیکی خرابی کے باوجود بھارتی طیارہ ایئرشو میں اڑایا گیا، پائلٹ کی حالت کے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، دھماکے کے بعد طیارہ زمین سے ٹکرایا تھا، ریسکیو ٹیموں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ دبئی ایئر شو کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی طیارہ شو کے دوران حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوا ہو۔بھارتی دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ دبئی ایئر شو میں حادثہ بھارت کی دفاعی صنعت کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو گا۔چند روز پہلے دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی جنگی طیارے کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی، جس میں تیجس کے فیول ٹینک سے تیل رسنے کا عمل واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔ تیجس جو بھارت میں مقامی طور پر تیار کردہ لڑاکا طیارہ ہے، گزشتہ دو سال کے اندر اندر اس نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ مارچ 2024 میں بھی ایک تیجس طیارہ راجستھان کے شہر جیسلمیر میں پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا، تیجس کی پہلی آزمائشی پرواز سال 2001 میں کی گئی تھی۔
دبئی ایئر شو میں تباہ جنگی طیارے تیجس کو بھارتی فضائیہ نے نقائص کے سبب شو میں لانے سے منع کیا تھا مگر سیاسی دباؤ کے باعث بات نہیں مانی گئی۔بھارتی جنگی طیارے تیجس کی تباہی حقیقت میں بھارت کی ادارہ جاتی ناکامی ہے، بدلتی اسپیسفکیشنز، ٹیکنالوجی گیپس اور غیر واضح ڈیزائن نے تیجس کے ترقیاتی پروگرام کو روکے رکھا۔تیجس طیارے کی تیاری کے دوران ہال کی پیداواری اور مینوفیکچرنگ کوالٹی پر سوالات اٹھائے گئے۔ تیجس طیارے کی تیاری کے دوران پینل مس الائنمنٹ، لیکج اور وائبریشن جیسے مسائل بارہا رپورٹ ہوئے۔تیجس طیارے میں دیسی انجن ناکام ہوا، جی ای انجن ایئر فریم کے مطابق نہیں تھا، تھرسٹ، اسمارٹ لوڈ اور حرارتی دباؤ کے مسائل سامنے آئے، کم اسپیڈ پر استحکام کے مسائل پائلٹ ان پٹ اور آٹو پائلٹ میں تضاد بھی تیجس تیاری کے ابتدائی مراحل میں سامنے آئے۔خیال رہے کہ تیجس طیاروں کا منصوبہ اپنے ڈیزائن اور دیگر چیلنجز کی وجہ سے انڈیا میں کافی تاخیر کا شکار رہا تھا اور ماضی میں تیجس طیاروں کو اپنے ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے مشکلات کا بھی سامنا رہا ہے اور ایک مرتبہ انڈین بحریہ نے ان طیاروں کو اپنے بیڑے میں شامل کرنے کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ بہت زیادہ بھاری ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا حادثہ رونما ہوا ہو، گزشتہ 5 سالوں کے دوران پیش آنے والے ایسے حادثات کی تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔فروری 2020 میں ٹائمز آف انڈیا نے ایک بھارتی بحریہ کے ترجمان کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کا ایک میگـ29 گوا کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہو گیا، جو معمول کی تربیتی پرواز پر تھا۔ 17 مارچ 2021 میں بھارت میں میگـ21 بائیسن طیارہ گرنے سے ایک آئی اے ایف پائلٹ ہلاک ہوا۔آئی اے ایف کے بیان میں کہا گیا کہ گروپ کیپٹن اے گپتا ایک جنگی تربیتی مشن کے لیے ایئربیس سے اْڑے تھے، جب انہیں یہ مہلک حادثہ پیش آیا، مزید کہا گیا تھا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری قائم کر دی گئی ہے۔29جولائی2022 میں بھارت میں سوویت دور کا ایک میگـ21 تربیتی پرواز کے دوران راجستھان میں کریش کر گیا، جبکہ 2 پائلٹ ہلاک ہوئے۔بھارتی فضائیہ نے بتایا تھا کہ تربیتی طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا’ اور وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا جبکہ وِنگ کمانڈر ایم۔ رانا اور فلائٹ لیفٹیننٹ آدویتّیہ بال ہلاک ہوئے۔29 جنوری2023 میں بھارتی دارالحکومت کے قریب مشقوں کے دوران بظاہر فضا میں ٹکرانے سے 2 فائٹر جیٹ طیارے گر کر تباہ ہو گئے، جس میں ایک پائلٹ ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔روسی ساختہ سوخوئی ایس یوـ30 میں دو پائلٹ سوار تھے، اور فرانسیسی ساختہ میراج 2000 ایک تیسرے پائلٹ نے اڑایا، دونوں طیارے گوالیار ایئربیس سے اڑے تھے، جو جائے حادثہ سے تقریباً 50 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔
8 مئی کو راجستھان کے علاقے سورت گڑھ کے قریب ایک روسی ساختہ مگـ21 آن بورڈ ایمرجنسی کے باعث گرنے سے زمین پر موجود تین افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ایک گھر تباہ ہو گیا تھا۔آئی اے ایف نے بتایا تھا کہ پائلٹ محفوظ طور پر باہر نکل آیا اور حادثہ معمول کی تربیتی پرواز کے تھوڑی دیر بعد پیش آیا۔12 مارچ2024 میں بھارتی فضائیہ کا مقامی طور پر تیار کردہ جنگی طیارہ ریاست راجستھان میں گر کر تباہ ہوا، یہ اس طیارے کے شامل کیے جانے کے بعد پہلا ایسا واقعہ تھا۔ 4 نومبرکو آئی اے ایف نے بتایا کہ ایک مگـ29 لڑاکا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران آگرہ کے قریب ‘سسٹم کی خرابی’ کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔بھارتی فضائیہ نے ‘ایکس’ پر لکھا تھا کہ پائلٹ نے زمین پر جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے طیارے کو قابو میں رکھا، پھر محفوظ طور پر باہر نکل آیا، وجہ جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔9 جولائی 2025 میں بھارتی فضائیہ کے مطابق اس کے دو پائلٹ راجستھان کے ضلع چورو کے ایک گاؤں کے قریب جیگوار لڑاکا طیارہ گرنے سے ہلاک ہو گئے۔راجالدیسر تھانہ انچارج کملیش نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا تھا کہ برطانویـفرانسیسی ساختہ طیارہ دوپہر ایک زرعی کھیت میں گرا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: گر کر تباہ ہو گیا بھارتی فضائیہ تربیتی پرواز دبئی ایئر شو لڑاکا طیارہ شو کے دوران آئی اے ایف میں بھارت پرواز کے ہلاک ہو کے قریب تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔