ٹیکسٹائل و کاٹن انڈسٹری تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
کراچی:
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ کاٹن پراڈکٹس کی درآمدات پر دیگر ممالک کی نسبت کم ٹیکسوں کی کم شرح عائد ہے جبکہ مقامی سطح پر حریف ممالک کی نسبت صنعتوں کیلیے زائد پاور اینڈ گیس ٹیرف کے علاوہ ٹیکسوں کی بھرمار نے پاکستانی ٹیکسٹائل و کاٹن انڈسٹری کو تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار کردیا ہے۔
چین سمیت دیگر ممالک سے پاکستان میں ماہوار لاکھوں کلوگرام سوتی دھاگے کی درآمدات میں انڈرانوائسنگ کے رحجان اور ڈیمانڈ بڑھنے کی اطلاعات کے بعد چین کے سوتی دھاگے کے ایک بڑے برآمد کنندہ نے مقامی ٹیکسٹائل ملوں اور ٹریڈرز کو سوتی دھاگے کی فروخت کیلیے فیصل آباد سوترمنڈی میں دفتر قائم کردیے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بڑے گروپوں کی صنعتوں سمیت سیکڑوں ٹیکسٹائل ملیں اور جننگ فیکٹریاں غیر فعال ہوگئی ہیں۔
ان عوامل کے سبب برآمدات میں تسلسل سے کمی اور درآمدات بڑھنے سے تجارتی اور جاری کھاتہ خسارہ بڑھ گیا ہے، احسان الحق نے بتایا کہ ملک میں سوتی دھاگے کی درآمدی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث ٹیکسٹائل اسپننگ ملوں کے بڑی تعداد غیر فعال ہوگئی ہیں۔
اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپٹما کی جانب سے کی جانے والی باقاعدہ تحقیق کی گئی جس میں اس امر کی نشاندہی ہوئی کہ بیرون ملک سے درآمد ہونیوالا سوتی دھاگے کو اصل قیمت سے کافی کم قیمت ظاہر کرکے کلئیرنس حاصل کی جارہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل اپٹما کی جانب سے ایف بی آر کو ارسال کردہ ایک خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض ٹریڈرز 3.
انھوں نے بتایا کہ اپٹما کی جانب سے ایف بی آر کو بھیجے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے اس معاملے کی تحقیقات کی جائے تاکہ مقامی کاٹن انڈسٹری ناصرف فعال بلکہ مسابقت کے قابل ہوسکے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے مقابلے میں چین کا سوتی دھاگہ سستا ہونے سے پاکستان میں چینی سوتی دھاگے کی درآمدات میں غیرمعمولی اضافے کو دیکھتے ہوئے چائنیز سوتی دھاگہ برآمد کرنے والی ایک بڑی فرم نے فیصل آباد سوتر منڈی میں اپنا ایک دفتر قائم کردیا ہے جو مستقبل میں سستی لاگت پر سوتی دھاگے کی مقامی کھپت میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔
لہذا ان زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ ٹیکسٹائل ملوں سمیت پوری کاٹن انڈسٹری کیلیے پاور گیس ٹیرف میں مطلوبہ کمی بجلی و گیس کے ساتھ اس انڈسٹری پر عائد ٹیکسوں کی شرح بھی کم کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کاٹن انڈسٹری نے بتایا کہ درا مدات کی درا
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
فیفا ورلڈکپ 2026 نے باضابطہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں پہلی بار 48 ٹیمیں اور مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔
12 جون سے شروع ہونے والا یہ میگا ایونٹ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا جو ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار تین ممالک میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس بار ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بھی پہلے سے بالکل مختلف ہے جہاں 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔
مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جس سے ایونٹ مزید طویل اور سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ورلڈکپ میں شامل 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی عالمی کپ کھیل چکے ہیں جبکہ 891 کھلاڑی پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔
مزید پڑھیںفیفا ورلڈکپ 2026 میں کیا نئی چیزیں متعارف ہوں گی؟
فیفا ورلڈکپ: میسی مسلسل چھٹے ورلڈکپ میں ارجنٹینا کی نمائندگی کیلیے تیار
فٹبال کے بڑے نام ایک بار پھر ایکشن میں ہوں گے جن میں لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور گیلرمو اوچوا شامل ہیں جو چھٹی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار چار نئے ممالک کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار ورلڈکپ کا حصہ بن رہے ہیں جس سے مقابلہ مزید غیر متوقع ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس ایونٹ میں سب سے کم عمر کھلاڑی صرف 17 سال کا ہوگا جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کی عمر میں میدان میں اترے گا۔
مجموعی اسکواڈ میں 7 کھلاڑی 40 سال سے زائد عمر کے ہیں جبکہ 22 انڈر 20 پلیئرز بھی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کریں گے۔
فیفا ورلڈکپ 2026 نہ صرف تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے بلکہ یہ فٹبال کی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔