Jasarat News:
2026-06-03@07:34:43 GMT

ناکارہ ملکی نظام کی تبدیلی کا عزم

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251123-09-2
ملک کی منظم ترین، حقیقی جمہوری، امانت و دیانت کی علمبر دار اور خدمت خلق کے جذبات سے سرشار، جماعت اسلامی کا تین روزہ کل پاکستان اجتماع عام لاہور کے تاریخی عظیم تر اقبال پارک میں مینار پاکستان کے زیر سایہ جاری ہے ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے اجتماع کے لیے مثالی انتظامات کیے گئے اور اس کے پروگرامات میں زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ خواتین اور عالمی اسلامی تحریکوں کے مہمانوں کے لیے جامع اور خصوصی سیشن پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں۔ ’’بدل دو نظام‘‘ کے عزم کے ساتھ اجتماع عام کا آغاز نماز جمعہ کی ادائیگی سے ہوا۔ ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی رئیس الاتحاد العالم اور ڈاکٹر عطاء الرحمن، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خطبہ جمعہ دیا اور جمعہ کی نماز کی امامت کی۔ اجتماع عام کے افتتاحی سیشن کا آغاز لیاقت بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور پھر حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعت اسلامی پاکستان کے خطاب سے ہوا۔ دونوں رہنمائوں نے اپنے خطابات میں اجتماع کے مثالی انتظامات کرنے والی شخصیات اور ان کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں مبارک باد دی۔ ’’سید مودودی تفکر، تحریک انقلاب اور جماعت اسلامی منزل بہ منزل‘‘ کے موضوع پر سلیم منصور خالد، مدیر ترجمان القرآن اور امیر العظیم، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان نے خطاب کیا۔ ’’پاکستان کی سیاست‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹر اسامہ رضی خان نائب امیر جماعت اسلامی نے خطاب کیا۔ محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے ’’عدلیہ‘‘ ڈاکٹر عشرت حسین سابق گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معیشت۔ پروفیسر ڈاکٹر اقبال خان وائس چانسلر شفا تعمیر ملت یونیورسٹی اور الطاف حسین لنگڑیال صدر تنظیم اساتذہ پاکستان نے صحت اور تعلیم کے موضوع پر خطاب کیا۔ اجتماع عام میں مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس کی صدارت مشہور شاعر انور مسعود نے کی، جب کہ دیگر شعرا نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ پاکستان بزنس فورم کی طرف سے پاکستانی مصنوعات کے فروغ کے لیے ’’میرا برانڈ میرا بازار‘‘ کے عنوان سے بازار سجایا۔ اسی طرح نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے مینار پاکستان کے نیچے یوتھ ایرینا کا بھی اہتمام کیا گیا۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اپنے افتتاحی خطاب میں ملت اسلامیہ پاکستان اور عالمی سطح پر امت مسلمہ کو درپیش تمام مسائل پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماع عام کا نعرہ ’’بدل دو نظام‘‘ ہے ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہو، پاکستان کا دستور قرآن و سنت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور ان کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی، 27 ویں آئینی ترمیم والے سن لیں کہ اللہ کے نزدیک کسی وڈیرے، جاگیردار، آرمی چیف یا صدر کو استثنیٰ حاصل نہیں، ابراہم معاہدہ قبول نہیں، اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچا تو 25 کروڑ عوام حکمرانوں کو نشان عبرت بنا دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 78 سال قبل لاہور مینار پاکستان میں قرار داد پاکستان کے ساتھ ایک اور قرارداد، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی قرارداد بھی شامل تھی، قائد اعظم نے اسرائیل کو ’’مغرب کا ناجائز بچہ‘‘ قرار دیا تھا، امریکا انسانیت کا کھلا دشمن ہے جس نے ہیرو شیما ناگا ساکی پر بم باری کی، یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ہر وہ قرار داد جو مظلوم کے حق میں ہو اس پر ویٹو کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کے معاملے پر کسی بھی قسم کی سودے بازی (مفاہمت) قبول نہیں کی جائے گی، پاک بھارت جنگ میں پوری قوم نے مل کر فوج کا ساتھ دیا لیکن ہمارے حکمرانوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے کہنے پر جنگ بندی کی، اگر یہ جنگ 2 روز اور جاری رہتی تو بھارت کو آئندہ کبھی حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوتی، ٹرمپ نے جنگ بندی میں کشمیر کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا، حکمران بتائیں کشمیر کے مسئلے پر کیوں بات نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 25 کروڑ عوام کا ملک ہے، کسی خاندان یا اسٹیبلشمنٹ کی جاگیر نہیں، 78 سال سے ملک پر قابض ٹولے نے قوم کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا، ہم قوم اور نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، اجتماع کے آخری روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور ظلم کے نظام کے خلاف ملک میں ہر کونے سے زبردست تحریک شروع کی جائے گی۔ حافظ نعیم نے مزید کہا کہ مولانا مودودی نے 84 سال قبل جو بیج بویا تھا آج وہ تناور درخت بن چکا، جماعت اسلامی فرقہ واریت اور قوم پرستی کے خلاف ہے، ہم جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے بھی مینار پاکستان لاہور میں مقدمہ پیش کریں گے، امریکی غلامی کو چھوڑ کر بلوچوں، پختونوں اور سندھیوں سے مل کر بات کی جائے، اندرون سندھ میں کچے اور پکے کے ڈاکوئوں کا راج ہے، پنجاب میں بھی غریب کسانوں کا استحصال کیا جاتا ہے، گندم اور چینی کی امپورٹ کر کے اس میں اربوں روپے کی کرپشن کی جاتی ہے، بیورو کریسی قوم کی خادم نہیں بلکہ حاکم بنی ہوئی ہے، چند خاندان 80 فی صد قوم پر مسلط ہیں، ہم فارم 47 یا کسی کی آشیرباد سے اقتدار میں نہیں آئیں گے بلکہ عوامی حمایت سے آئیں گے۔ انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے نوجوان جماعت اسلامی کی امید ہیں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے ہر سطح پر تحریک تیز کی جائے گی، جب بپھرے عوام نکل آتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔

جماعت اسلامی کی ایک اہم اور قابل قدر خوبی یہ بھی ہے کہ اس کی قیادت کسی مخصوص خاندان تک محدود ہے نہ اس کا انحصار دولت و سرمایے پر ہے یہ نہ جاگیردار طبقہ سے تعلق رکھتی ہے اور نہ ہی یہ اندرونی و بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر ناچنے والی ہے۔ جماعت کی قیادت عوام میں سے ہے اور عوام کے مسائل کو بخوبی سمجھتی ہے۔ یہ قیادت خالی خولی نعروں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ جو کہتی ہے اس پر عمل کرنے اور کرانے کی ہمت اور صلاحیت بھی رکھتی ہے امیر جماعت نے اپنے افتتاحی خطاب میں جن قومی اور بین الاقوامی امور پر روشنی ڈالی ہے وہ کوئی خلائی باتیں نہیں بلکہ زمینی حقائق ہے جن کا ملک کے ہر صاحب فہم و بصیرت فرد کو بخوبی احساس و ادراک ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے ملک کے فرسودہ و ناکارہ نظام جو فی الواقع ملک کے بہت سے مسائل کا اہم سبب ہے، کو بدلنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے اختتامی خطاب میں واضح لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ توقع رکھنا چاہیے کہ اگر عوام نے اس میں ان کا ساتھ دیا اور اپنا مطلوب کردار اس ضمن میں ادا کیا تو جماعت اسلامی واقعی ناکارہ ملکی نظام کو تبدیل کرنے اور ’’اسلامی انقلاب‘‘ کے دیرینہ خواب کی عملی تعبیر قوم کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہو جائے گی…!!!

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پاکستان امیر جماعت اسلامی مینار پاکستان پاکستان نے پاکستان کے حافظ نعیم انہوں نے جائے گی کی جائے کہا کہ اور ان کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ