ناکارہ ملکی نظام کی تبدیلی کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251123-09-2
ملک کی منظم ترین، حقیقی جمہوری، امانت و دیانت کی علمبر دار اور خدمت خلق کے جذبات سے سرشار، جماعت اسلامی کا تین روزہ کل پاکستان اجتماع عام لاہور کے تاریخی عظیم تر اقبال پارک میں مینار پاکستان کے زیر سایہ جاری ہے ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے اجتماع کے لیے مثالی انتظامات کیے گئے اور اس کے پروگرامات میں زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ خواتین اور عالمی اسلامی تحریکوں کے مہمانوں کے لیے جامع اور خصوصی سیشن پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں۔ ’’بدل دو نظام‘‘ کے عزم کے ساتھ اجتماع عام کا آغاز نماز جمعہ کی ادائیگی سے ہوا۔ ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی رئیس الاتحاد العالم اور ڈاکٹر عطاء الرحمن، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خطبہ جمعہ دیا اور جمعہ کی نماز کی امامت کی۔ اجتماع عام کے افتتاحی سیشن کا آغاز لیاقت بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور پھر حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعت اسلامی پاکستان کے خطاب سے ہوا۔ دونوں رہنمائوں نے اپنے خطابات میں اجتماع کے مثالی انتظامات کرنے والی شخصیات اور ان کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں مبارک باد دی۔ ’’سید مودودی تفکر، تحریک انقلاب اور جماعت اسلامی منزل بہ منزل‘‘ کے موضوع پر سلیم منصور خالد، مدیر ترجمان القرآن اور امیر العظیم، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان نے خطاب کیا۔ ’’پاکستان کی سیاست‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹر اسامہ رضی خان نائب امیر جماعت اسلامی نے خطاب کیا۔ محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے ’’عدلیہ‘‘ ڈاکٹر عشرت حسین سابق گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معیشت۔ پروفیسر ڈاکٹر اقبال خان وائس چانسلر شفا تعمیر ملت یونیورسٹی اور الطاف حسین لنگڑیال صدر تنظیم اساتذہ پاکستان نے صحت اور تعلیم کے موضوع پر خطاب کیا۔ اجتماع عام میں مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس کی صدارت مشہور شاعر انور مسعود نے کی، جب کہ دیگر شعرا نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ پاکستان بزنس فورم کی طرف سے پاکستانی مصنوعات کے فروغ کے لیے ’’میرا برانڈ میرا بازار‘‘ کے عنوان سے بازار سجایا۔ اسی طرح نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے مینار پاکستان کے نیچے یوتھ ایرینا کا بھی اہتمام کیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اپنے افتتاحی خطاب میں ملت اسلامیہ پاکستان اور عالمی سطح پر امت مسلمہ کو درپیش تمام مسائل پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماع عام کا نعرہ ’’بدل دو نظام‘‘ ہے ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہو، پاکستان کا دستور قرآن و سنت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور ان کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی، 27 ویں آئینی ترمیم والے سن لیں کہ اللہ کے نزدیک کسی وڈیرے، جاگیردار، آرمی چیف یا صدر کو استثنیٰ حاصل نہیں، ابراہم معاہدہ قبول نہیں، اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچا تو 25 کروڑ عوام حکمرانوں کو نشان عبرت بنا دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 78 سال قبل لاہور مینار پاکستان میں قرار داد پاکستان کے ساتھ ایک اور قرارداد، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی قرارداد بھی شامل تھی، قائد اعظم نے اسرائیل کو ’’مغرب کا ناجائز بچہ‘‘ قرار دیا تھا، امریکا انسانیت کا کھلا دشمن ہے جس نے ہیرو شیما ناگا ساکی پر بم باری کی، یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ہر وہ قرار داد جو مظلوم کے حق میں ہو اس پر ویٹو کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کے معاملے پر کسی بھی قسم کی سودے بازی (مفاہمت) قبول نہیں کی جائے گی، پاک بھارت جنگ میں پوری قوم نے مل کر فوج کا ساتھ دیا لیکن ہمارے حکمرانوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے کہنے پر جنگ بندی کی، اگر یہ جنگ 2 روز اور جاری رہتی تو بھارت کو آئندہ کبھی حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوتی، ٹرمپ نے جنگ بندی میں کشمیر کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا، حکمران بتائیں کشمیر کے مسئلے پر کیوں بات نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 25 کروڑ عوام کا ملک ہے، کسی خاندان یا اسٹیبلشمنٹ کی جاگیر نہیں، 78 سال سے ملک پر قابض ٹولے نے قوم کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا، ہم قوم اور نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، اجتماع کے آخری روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور ظلم کے نظام کے خلاف ملک میں ہر کونے سے زبردست تحریک شروع کی جائے گی۔ حافظ نعیم نے مزید کہا کہ مولانا مودودی نے 84 سال قبل جو بیج بویا تھا آج وہ تناور درخت بن چکا، جماعت اسلامی فرقہ واریت اور قوم پرستی کے خلاف ہے، ہم جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے بھی مینار پاکستان لاہور میں مقدمہ پیش کریں گے، امریکی غلامی کو چھوڑ کر بلوچوں، پختونوں اور سندھیوں سے مل کر بات کی جائے، اندرون سندھ میں کچے اور پکے کے ڈاکوئوں کا راج ہے، پنجاب میں بھی غریب کسانوں کا استحصال کیا جاتا ہے، گندم اور چینی کی امپورٹ کر کے اس میں اربوں روپے کی کرپشن کی جاتی ہے، بیورو کریسی قوم کی خادم نہیں بلکہ حاکم بنی ہوئی ہے، چند خاندان 80 فی صد قوم پر مسلط ہیں، ہم فارم 47 یا کسی کی آشیرباد سے اقتدار میں نہیں آئیں گے بلکہ عوامی حمایت سے آئیں گے۔ انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے نوجوان جماعت اسلامی کی امید ہیں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے ہر سطح پر تحریک تیز کی جائے گی، جب بپھرے عوام نکل آتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔
جماعت اسلامی کی ایک اہم اور قابل قدر خوبی یہ بھی ہے کہ اس کی قیادت کسی مخصوص خاندان تک محدود ہے نہ اس کا انحصار دولت و سرمایے پر ہے یہ نہ جاگیردار طبقہ سے تعلق رکھتی ہے اور نہ ہی یہ اندرونی و بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر ناچنے والی ہے۔ جماعت کی قیادت عوام میں سے ہے اور عوام کے مسائل کو بخوبی سمجھتی ہے۔ یہ قیادت خالی خولی نعروں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ جو کہتی ہے اس پر عمل کرنے اور کرانے کی ہمت اور صلاحیت بھی رکھتی ہے امیر جماعت نے اپنے افتتاحی خطاب میں جن قومی اور بین الاقوامی امور پر روشنی ڈالی ہے وہ کوئی خلائی باتیں نہیں بلکہ زمینی حقائق ہے جن کا ملک کے ہر صاحب فہم و بصیرت فرد کو بخوبی احساس و ادراک ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے ملک کے فرسودہ و ناکارہ نظام جو فی الواقع ملک کے بہت سے مسائل کا اہم سبب ہے، کو بدلنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے اختتامی خطاب میں واضح لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ توقع رکھنا چاہیے کہ اگر عوام نے اس میں ان کا ساتھ دیا اور اپنا مطلوب کردار اس ضمن میں ادا کیا تو جماعت اسلامی واقعی ناکارہ ملکی نظام کو تبدیل کرنے اور ’’اسلامی انقلاب‘‘ کے دیرینہ خواب کی عملی تعبیر قوم کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہو جائے گی…!!!
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پاکستان امیر جماعت اسلامی مینار پاکستان پاکستان نے پاکستان کے حافظ نعیم انہوں نے جائے گی کی جائے کہا کہ اور ان کے لیے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔