لاہور:

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے بدل دو نظام تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی جلسوں اور دھرنوں کا اعلان کردیا۔

مینار پاکستان لاہور پر جماعت اسلامی کے تین روزہ کل پاکستان اجتماع عام میں شریک لاکھوں شرکاء سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ چند لوگوں کو انکے منصب سے معذول کرکے نظام بدلیں گے۔ عدلیہ کے جعلی نظام کو ختم کریں گے، چند لوگ آئین میں تبدیلیاں کرکے اپنی لوٹ مار کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن انہیں 25 کروڑ عوام کے سامنے جوابدہ بنائیں گے، آئین کی بالادستی و تحفظ کیلئے تحریک چلائیں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ میں 25 شہروں میں احتجاجی جلسے اور دھرنے کریں گے، عوام کو منظم کرنے کے بعد جماعت اسلامی پاکستان کو چند لوگوں کے ہاتھوں سے نجات دلائے گی۔ ہمیں کسی فیلڈ مارشل کا نہیں اللہ کا نظام چاہئے۔ جماعت اسلامی اب کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی، پاکستان میں ٹی ایل پی لاکھوں ووٹ لینے والی پارٹی ہے، اس پر سے پابندی ہٹنی چاہئے اور عمران خان کو بھی رہا ہونا چاہئے۔ 

انہوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور انتخابات کے نام پر فراڈ بند ہونا چاہئے۔ مقامی حکومتوں کو مالیاتی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔ بلدیاتی نظام کو آئینی تحفظ ملنا چاہئے۔ پنجاب میں جعلی بلدیاتی ایکٹ کیخلاف تحریک شروع کریں گے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی کے 9 ٹاؤنز میں تعمیر و ترقی کا سفر شروع کردیا، ہمیں میئر شپ سے محروم کیا گیا لیکن اسکے باوجود ہم وہاں اختیارات سے بڑھ کر کام کررہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گی مگر ہم قوم پرست نہیں بنیں گے، پاکستان پر چند لوگوں کا قبضہ ہے، پاکستان یہاں بسنے والی ہر قومیت کا ہے، ملک میں عدل کا نظام ہونا چاہئے، مسائل پر بات کریں گے لیکن پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ہماری اصل طاقت ہمارے نظریے اور نظم و ضبط میں ہے، پوری یکسوئی سے آگے بڑھیں گے تو اسٹیبلیشمنٹ یا کوئی اور طاقت سامنے نہیں آسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات کو درست کیا جائے، افغانستان بھی اس بات کو یقینی بنائے کہ اسکی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو،  انہوں نے کہ ہم چاہتے ہیں پاکستان کی خارجہ پالسی آزاد ہو، امریکا کی غلامی اختیار کرکے ہم نے پاکستان کا بہت نقصان کرلیا، حکومت ٹرمپ کی خوشامد میں فلسطین کاز سے پیچھے ہٹ رہی ہے، ہم کسی دو ریاستی حل کو نہیں مانتے، ٹرمپ کا امن منصوبہ مسترد کرتے ہیں، حکمرانوں نے ابراہم اکارڈ کا حصہ بننے کا سوچا تو یہ لاکھوں لوگ انہیں عبرت کا نشان بنادیں گے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے، حکومت اپنا فریضہ انجام دے، پورا پاکستان کشمیریوں کا بیس کیمپ ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہئے، حکمرانوں نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر کوئی سودے بازی کی تو قوم معاف نہیں کرے گی۔

انہوں نے ’زی کنیکٹ‘ پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ہنر سے آراستہ کریں گے، اسٹارٹ اپس اور مائیکرو فنانسنگ کے ذریعے نوجوانوں کی مدد کریں گے، کھیلوں میں نوجوانوں کو آگے بڑھانے کیلئے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کریں گے۔ جین زی کو ساتھ لیکر چلیں گے اور انکی اخلاقی تربیت بھی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے اعلان تک ہمارا کوئی امیدوار نہیں ہے، پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں نظم و ضبط کا فقدان ہے، نظم و ضبط کے بغیر تحریکیں ختم ہوجاتی ہیں، جس کو جماعت نامزد کرے گی وہی ہمارا امیدوار ہوگا۔

اجتماع عام سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں لیاقت بلوچ، مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ، عنایت الرحمٰن خان سمیت مختلف ممالک سے آئے ہوئے اسلامی تحریکوں کے قائدین نے بھی خطاب کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی انہوں نے کہ حافظ نعیم کا اعلان الرحم ن کریں گے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی