پی ٹی آئی والے منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں، اختیار ولی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
وزیراعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں منشیات تیار کرنے کے مراکز سرگرم ہیں، یہاں سے منشیات پورے ملک میں اسمگل ہوتی ہیں اور اس دھندے میں پی ٹی آئی کے لوگ شامل ہیں، جبکہ منشیات کا کچھ پیسہ سرحد پار بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بی آر ٹی، مالم جبہ کیس دوبارہ کھلنے چاہئیں، اختیار ولی خان
اختیار ولی خان نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ چونکہ ان کا تعلق ضلع خیبر سے ہے، اس لیے وہ اپنے ہی ضلع میں منشیات کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس وزیراعلیٰ کے حلقے میں منشیات تیار ہورہی ہوں، اسے اپنے منصب سے الگ ہوجانا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے منشیات کی موجودگی کی تردید کرکے حالات کی سنجیدگی کا انکار کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کو چاہیے تھا کہ منشیات اسمگلنگ کے راستے بند کرتے، لیکن انہوں نے وزیر اطلاعات سے محض ایک پریس کانفرنس کرا دی۔
یہ بھی پڑھیں: 9مئی میں ملوث سہیل آفریدی کی عوامی عہدے کے لیے اہلیت سوالیہ نشان ہے، اختیار ولی
اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ منشیات سے حاصل ہونے والا پیسہ ریاست مخالف سرگرمیوں اور گولہ بارود کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، جو ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے، منشیات کے کاروبار سے حاصل ہونے والا سرمایہ دہشتگردی کی کارروائیوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اختیار ولی منشیات وادی تیرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اختیار ولی منشیات وادی تیرہ اختیار ولی خان
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔