طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں سیاسی بازیگروں نے جمہوریت کو کمزور کیا ہے، شاداب نقشبندی
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
معززین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ اسلام دشمن قوتیں پاکستان کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں، پاکستان مضبوط و مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، حکمران طبقے کو گراؤنڈ میں آکر عوامی مسائل کو جاننا اور فوری حل کرنا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں سیاسی بازیگروں نے جمہوریت کو کمزور کیا ہے، ملک کے عوام 78 سال بعد بھی بے روزگاری اور مہنگائی کی مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں، ملک کے مستقبل کو مستحکم بنانے کیلئے نیو جنریشن کو آگے آنے مواقع فراہم کئے جائیں، پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم اور دنیا کا ترقی یافتہ ماڈل ملک دیکھنا چاہتے ہیں، حکمرانوں کی قرضے لینے کی پالسیاں کسی طور بھی عوام دوست نہیں قرضوں کا سارا بوجھ عام غریب پر ڈالا جارہا ہے، معاشی استحکام کے الفاظوں کے ہیر پھیر سے عوام کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا، ملک کی اکثریت عوام آج بھی دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان حال ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت ملاقات کیلئے آئے ہوئے معززین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ ملک کے 11 کروڑ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں، بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے حکمران پارلیمنٹ میں قرارداد کیوں پیش نہیں کررہے، عوام کو مہنگائی و بے روزگاری سے نجات دلانا اور بنیادی حقوق فراہم کرنا حکمرانوں کی آئینی ذمہ داری ہے، معاشی استحکام و ترقی کیلئے سیاسی جماعتوں اور حکومت کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان سنی تحریک ملک میں عدل و انصاف کی بالادستی معاشی استحکام اور عوام کے مسائل کا حل چاہتی ہے۔ انہوں کا کہنا تھا کہ اسلام دشمن قوتیں پاکستان کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں، پاکستان مضبوط و مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، حکمران طبقے کو گراؤنڈ میں آکر عوامی مسائل کو جاننا اور فوری حل کرنا چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔