27ویں آئینی ترامیم آئین اور جمہوریت پر شب خون ہے، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ این ایف سی اور اٹھارہویں ترمیم پر کمپرومائزنہ کرنے کی تو بات کی جاتی ہے لیکن پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت بتائے کہ اختیارات و وسائل نچلی سطح پر کیوں نہیں منتقل کیے جاتے اور پی ایف سی ایوارڈ سے کراچی کو اس کا جائز اور قانونی حصہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اگر ستائیسویں آئینی ترمیم عوام کیلئے آتی تو سمجھ آتا لیکن اس کا مقصد طاقتوروں کو استثنیٰ دلانا اور عدلیہ پر اثرانداز ہونا ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 27ویں آئینی ترامیم آئین اور جمہوریت پر شب خون ہے، اسے مسترد کرتے ہیں،خود کو جمہوری کہنے والی پارٹیوں کا طرزِ عمل غیر جمہوری ہے، پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم ہے، 26ویں اور پھر 27ویں آئینی ترامیم سے وہ قوتیں جو آئین اور جمہوریت کو یر غمال بناتی ہیں سب کے سامنے بالکل عیاں ہو گئی ہیں، بد قسمتی سے جو جماعتیں خود کو جمہوری کہتی ہیں ان کا اپنا رویہ اور طرزِ عمل بھی غیر جمہوری اور جمہوریت کی نفی ہے، ان جماعتوں میں نہ خود ان کے اندر جمہوریت ہے اور نہ ان کی سیاست جمہوریت و آئین کے مطابق ہے، اس وجہ سے ان قوتوں کو طاقت ملتی ہے جو مزید طاقت اور فوائد حاصل کرنا چاہتی ہیں، 27ویں ترمیم کو کلیتاً مسترد کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ، خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ خود کو احتساب کے لیے عوام اور عدالت کے سامنے یپش کرتے تھے۔ آئین کا حلیہ بگاڑ نے والی جماعتیں، خاندان وراثت اور وصیت کی بنیاد پر چلنے والی پارٹیاں ہیں، ان جماعتوں کی پرورش آمروں کی گودوں میں ہوئی۔ کیا مسٹر اور کیا مولانا سب ایک ہیں، پیپلز پارٹی کے سربراہ چند لوگوں کو عدالت سے ماوراء کرنے کیلئے دلائل پیش کر رہے، نام نہاد جمہوری قوتیں زبردستی اپنی مرضی سے نظام وضع کر رہی ہیں۔ آئین کی اعتبار سے صحیح معنوں میں عدلیہ آزاد ہوگی تو تمام ترامیم ختم ہوں گی۔ 27 ویں ترمیم کے ذریعے حکومت اکثریت اور عدلیہ اقلیت میں آگئی ہے، جس سے اپنی مرضی سے ججز کا ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ جب سارے رستے بند ہو جاتے ہیں تو عوام کے ہاتھ حکمرانوں کی گردنوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ گزشتہ آمروں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اب دنیا بدل رہی ہے، جنریشن زی بڑے بڑے انقلاب برپا کر رہی ہے۔ عوام کی رائے کے مطابق پارٹی کو اقتدار میں نہیں آنے دیا جاتا۔ ملک کی تقسیم بھی اسی کی وجہ سے ہوئی کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا اور ملک ٹوٹ گیا، 2 سال قبل بلدیاتی انتخابات میں عوام نے جماعت اسلامی کو مینڈیٹ دیا۔ پہلے حلقہ بندیاں اپنی مرضی کی بنائی گئیں پھر ہماری جیتی ہوئی نشستیں اور ٹاؤنز چھیننے گئے۔ جماعت اسلامی کے 192 اور پیپلز پارٹی کے 172 یوسی چیئرمین تھے، لیکن اس کے باوجود عوام کے حقیقی مینڈیٹ پر قبضہ کیا۔ لوکل باڈیز کو اختیارات منتقل کرنے کی لیے آئین میں رہنمائی موجود ہے لیکن بلدیاتی اداروں کو اختیارات و وسائل منتقل نہیں کیے جاتے، این ایف سی اور اٹھارہویں ترمیم پر کمپرومائزنہ کرنے کی تو بات کی جاتی ہے لیکن پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت بتائے کہ اختیارات و وسائل نچلی سطح پر کیوں نہیں منتقل کیے جاتے اور پی ایف سی ایوارڈ سے کراچی کو اس کا جائز اور قانونی حصہ کیوں نہیں دیا جاتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے کہا جماعت اسلامی پیپلز پارٹی اور جمہوریت کیوں نہیں کرنے کی ایف سی
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔