تقریب میں جعلی ایڈمرل کی انٹری،اتنے تمغے کہ اصلی فوجی بھی حیران
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
لندن: ویلز کے قصبے لینڈڈنو میں منعقدہ ری میمبرینس سنڈے کی تقریب میں ایک شخص جعلی ایڈمرل بن کر پہنچ گیا، جس کے بعد برطانوی نیوی اور سابق فوجیوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق جوناتھن ڈیوڈ کارلی نامی شخص نے ریئر ایڈمرل کی یونیفارم اور بارہ تمغے پہن کر یادگارِ شہدا کے سامنے سلامی دی۔ تقریب کے منتظمین کے مطابق وہ مہمانوں کی فہرست میں شامل نہیں تھا اور اچانک وہاں پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی فوجی افسر گرفتار، پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج
برطانوی رائل نیوی نے اس حرکت کو تضحیک آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی یونیفارم پہننے کا یہ عمل 1894 کے یونیفارمز ایکٹ کے تحت جرم ہوسکتا ہے۔
کارلی کے جعلی تمغوں میں ڈسٹنگوئشڈ سروس آرڈر، ایم بی ای اور گلف وار میڈل شامل تھے — ایسی ترکیب جو کسی حقیقی افسر کے پاس ہونا ممکن نہیں۔ اس کے لباس کے دیگر حصے بھی قواعد کے خلاف تھے۔
منتظمین نے بتایا کہ کارلی نے خود کو لارڈ لیفٹننٹ آف کلویڈ کا نمائندہ ظاہر کیا، لیکن اصل لارڈ لیفٹننٹ ہیری فیتھر سون ہاف نے وضاحت کی کہ وہ اس شخص کو جانتے ہی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں جعلی پولیس اہلکاروں نے غیرملکی خاتون کو لوٹ لیا
رپورٹس کے مطابق کارلی اس سے قبل 2018 اور 2019 میں بھی اسی علاقے میں یادگاری تقریبات میں جعلی ایڈمرل بن کر شریک ہوچکا ہے۔
والٹر مِٹی ہنٹرز کلب، جو جعلی فوجی شخصیات کو بے نقاب کرتا ہے، نے کہا: یہ شاید اب تک کا سب سے اعلیٰ درجے کا جعلی افسر ہے۔
رائل نیوی کے ترجمان نے کہا کہ ایسا عمل بحریہ سے وابستہ افراد کی توہین ہے اور یادگاری تقریب کے تقدس کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news برطانیہ جعلی ایڈمرل ری میمبرینس سنڈے فوج لندن نیوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانیہ جعلی ایڈمرل ری میمبرینس سنڈے فوج نیوی جعلی ایڈمرل
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔