Jasarat News:
2026-07-24@05:40:40 GMT

میرپور خاص:24گھنٹے میں ڈینگی کے مزید 7کیسز سامنے آگئے

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) میرپور خاص میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 7 ڈینگی کیسز سامنے آئے جبکہ مجموعی طور پر اب تک 217 ڈینگی متاثرہ افراد کو سول اسپتال علاج کے لیے لایا گیا ہے ڈی ایچ کیو میرپورخاص کے مطابق اس وقت تین ڈینگی کے متاثرہ مریض سول اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ اللہ کے فضل سے اب تک کوئی اموات نہیں ہوئی ہے سول اسپتال میرپورخاص میں ڈینگی وارڈ قائم کیا جاچکا ہے اور مریضوں کا بہتر علاج کیا جارہا ہے اس حوالے سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہر شہری شام کے وقت مکمل آستین والے کپڑے پہنے برتنوں میں پانی ڈانپ کر رکھے اور مچھروں سے بچاؤ کے طریقے پر عمل کریں دوسری جانب میئر عبدالرؤف غوری نے مچھر مار اسپرے کے حوالے سے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن میرپورخاص کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ایک ماہ سے مچھر مار اسپرے کروایا جارہا تاکہ شہری ملیریا سمیت ڈینگی مچھروں سے محفوظ رہیں میئر عبدالرؤف غوری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جگہ جگہ کچرے نہ پھینکے بلکہ کچرا کنڈیوں میں کچرے کو ڈمپ کریں وہاں سے مناسبل کا اپریشن کا عملہ انہیں اٹھا کر لے جائے گا انہوں نے کہا کہ ہمیں خود بھی احتیاط کرنی چاہیے علاؤہ ازیں حاجی محمد علی چیئرمین یو سی 8 میر شیر محمد تالپور نے بھی گزشتہ کئی روز سے مچھر مار اسپرے علاقے میں جاری رکھا ہوا ہے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق