پاکستان کا معاشی و سیاسی بحران محض نااہلی یا وقتی ناکامیوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک گہری ریاستی، معاشی اور سماجی ساخت کا اظہار ہے جو دہائیوں سے عوام کو اپنے ہی ملک میں کمزور، محتاج اور بے اختیار رکھنے پر قائم ہے۔
یہ حقیقت بار بار ثابت ہوچکی ہے کہ اگر ریاست چاہے تو پانی کے نظام کو درست کر کے زراعت کو جدید خطوط پر استوارکرسکتی ہے۔
بجلی کے بحران کو ڈیموں اور مقامی توانائی ذرائع کے ذریعے حل کرسکتی ہے، ایران جیسے ہمسائے سے سستا تیل و گیس خرید کر عوامی مشکلات کم کر سکتی ہے، تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان اور سیاحت جیسے شعبوں کو مضبوط کر کے ملک کی مجموعی ترقی کا راستہ کھول سکتی ہے، مگر ان تمام امکانات کے باوجود ایسا کبھی نہیں ہوتا۔
اس نہ ہونے کے عمل کے پیچھے اصل وجہ یہ نہیں کہ حکمران نااہل ہیں یا وسائل کم ہیں، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ریاستی ڈھانچہ بنیادی طور پر عوامی فلاح کے نظریے پر قائم ہی نہیں۔
یہ ڈھانچہ سیاسی معیشت، طاقت کے ارتکاز اور مفادات کے ایسے جال پر کھڑا ہے جہاں ریاست کا مقصد عوام کو ترقی دینا نہیں بلکہ انھیں ایسے مقام پر رکھنا ہے جہاں وہ زندہ تو رہیں مگر بااختیار نہ ہو جائیں۔
پاکستان کی سیاسی معیشت مخصوص اشرافیہ کا تسلط (Elite Capture) کے اصول پر چلتی ہے۔ طاقت، دولت، پالیسی اور اداروں کا کنٹرول چند طاقتور گروہوں کے پاس ہے، جن میں سیاسی اشرافیہ ، جاگیردار، بڑے صنعتی سرمایہ کار، غیر قانونی تجارتی گٹھ جوڑ Business Cartel اور مذہبی و سماجی اثر و رسوخ رکھنے والے طبقات شامل ہوتے ہیں۔
ان کے مفادات اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ عوام کے لیے کوئی بھی بنیادی سہولت چاہے وہ بجلی ہو یا پانی، تعلیم ہو یا صحت اس وقت تک دستیاب نہیں ہوتی جب تک یہ طاقتور گروہ خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔ بجلی مہنگی اس لیے نہیں کہ پیداوار ناممکن ہے، بلکہ اس لیے کہ توانائی کا پورا شعبہ ایسے مفادات کے گرد گھومتا ہے جن کے لیے بحران فائدہ مند اور حل خطرناک ہوتا ہے۔
ٹیکس کا نظام اس لیے غیر منصفانہ ہے کہ اسے عوام کے لیے نہیں بلکہ طاقتور طبقات اور ریاستی اداروں کے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اسی طرح زرعی اصلاحات نہ ہونے، زمین کی غیر منصفانہ تقسیم، درآمدی پالیسیوں کی بدعنوانی اور عوامی خدمات کے زوال کے پیچھے بھی یہی سیاسی معیشتی ڈھانچہ کام کرتا ہے۔
ریاستی سائنس کے لحاظ سے ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جس کے پاس قانون نافذ کرنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی کی شفافیت، عوامی قبولیت اور اداروں کی آزادی ہو۔
پاکستان میں یہ تمام عناصر کمزور ہیں، کیونکہ طاقت کئی مراکز میں بٹی ہوئی ہے اور کوئی بھی مرکز ایسا نہیں جس کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا ہو۔ فیصلے اکثر آئین یا عوامی فلاح کے تحت نہیں بلکہ اس بنیاد پرکیے جاتے ہیں کہ طاقت کا موجودہ توازن برقرار رہے۔
اسی لیے پالیسیوں میں تسلسل نہیں آتا، اصلاحات کبھی مکمل نہیں ہوتیں، ادارے مسلسل سیاسی، عسکری یا معاشی اثر و رسوخ میں دبے رہتے ہیں، اور عوام بنیادی حقوق کے لیے بھی لڑتے رہتے ہیں۔
ریاست (Extractive Model) کے تحت چلتی ہے، یعنی عوام سے ٹیکس، محنت اور معاشی قربانیاں لی جاتی ہیں، مگر بدلے میں انھیں نہ تحفظ ملتا ہے، نہ سہولت، نہ ترقی۔ سماجیاتی تجزیے کے مطابق پاکستان کا معاشرہ طبقاتی تقسیم، کمزور سیاسی شعور اور طاقت کے روایتی مراکز کے زیرِ اثر ہے۔
یہ تقسیم صرف معاشی نہیں بلکہ فکری اور ثقافتی بھی ہے۔ اشرافیہ پالیسی بناتی ہے اور متوسط طبقہ ان پالیسیوں کو اپنی بقا کے خوف یا امید میں قبول کرتا ہے، جب کہ محنت کش اور غریب طبقے ریاستی استحصال کا بوجھ برداشت کرتے رہتے ہیں۔
عوام کو دانستہ طور پر روزمرہ معاشی مشکلات میں الجھا دیا جاتا ہے تاکہ وہ بڑے ریاستی مسائل کو سمجھنے اور ان پر سوال اٹھانے کی صلاحیت کھو بیٹھیں۔ جب لوگ مہنگائی، روزگار، بجلی کے بل، اسکولوں کی فیس، یا صحت کے اخراجات میں پھنس جائیں تو انھیں اس بات پر غور کرنے کا موقع نہیں ملتا کہ یہ سارا بحران کیوں پیدا ہوتا ہے اور اسے کون چلاتا ہے۔
یہ پورا نظام عوام کو Survival Mode میں رکھتا ہے، جس میں انسان سوچتا کم اور جیتا زیادہ ہے۔اجتماعی نفسیات کے اعتبار سے ریاست طاقت کے دو بنیادی اصول استعمال کرتی ہے، خوف اور امید۔
عوام کو کبھی سیکیورٹی کے نام پر ڈرایا جاتا ہے، کبھی معاشی بحران کے نام پر، کبھی انتشار اور دشمن کے خوف میں رکھا جاتا ہے اور کبھی چھوٹی چھوٹی رعایتوں کے ذریعے انھیں امید کا دھوکا دیا جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی ماحول عوام کو مطیع رکھتا ہے، انھیں بڑے سوال پوچھنے سے روکتا ہے اور انھیں قلیل مدتی مسائل میں گم رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب عوام اپنی محنت سے آگے بڑھنے لگتے ہیں تو ریاست انھیں ٹیکسوں، مہنگائی یا نئے انتظامی مسائل کے ذریعے واپس اسی مقام پر لے آتی ہے جہاں سے وہ نکلنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حکمرانی ماڈل میں ترقی کو عوامی حق کے بجائے ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
باشعور اور بااختیار عوام ریاستی طاقت کے توازن کو چیلنج کرتے ہیں، اسی لیے تعلیم بہتر نہیں ہوتی، تحقیق و ترقی کو مواقع نہیں ملتے، صحت اور روزگار کے شعبے مضبوط نہیں ہوتے، اور عام آدمی کو وہ سہولتیں نہیں ملتیں جو ایک آزاد شہری کا بنیادی حق ہوتی ہیں۔
یہ غلامی آج زنجیروں میں نظر نہیں آتی بلکہ معاشی ڈھانچوں، سماجی رویوں، کمزور اداروں، غلط ترجیحات اور طاقت کے ناموزوں توازن میں چھپی ہوئی ہے۔اگر کوئی قوم اس صورتحال کو بدل سکتی ہے تو وہ خود عوام ہیں، مگر تبدیلی اس وقت آتی ہے جب قوم اپنے مسائل کو صرف جذبات یا سیاست کی عینک سے نہیں بلکہ ایک اجتماعی حقیقت کے طور پر دیکھتی ہے۔
پاکستان کا مستقبل اسی وقت بدلے گا جب ریاست کی ترجیح طاقت کے تحفظ کے بجائے عوام کی بہتری ہوگی، اور یہ تبدیلی تبھی ممکن ہے جب عوام اپنے حقوق کو محض خواہش نہیں بلکہ مطالبہ بنا دیں۔ جو قوم حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر لے، وہ غلامی کی سب سے مضبوط زنجیر بھی توڑ سکتی ہے، خواہ وہ زنجیر نظر نہیں بھی آتی ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ ہیں بلکہ عوام کو جاتا ہے سکتی ہے طاقت کے ہے اور ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز