Express News:
2026-07-24@09:32:18 GMT

زنجیریں

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

پاکستان کا معاشی و سیاسی بحران محض نااہلی یا وقتی ناکامیوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک گہری ریاستی، معاشی اور سماجی ساخت کا اظہار ہے جو دہائیوں سے عوام کو اپنے ہی ملک میں کمزور، محتاج اور بے اختیار رکھنے پر قائم ہے۔

یہ حقیقت بار بار ثابت ہوچکی ہے کہ اگر ریاست چاہے تو پانی کے نظام کو درست کر کے زراعت کو جدید خطوط پر استوارکرسکتی ہے۔

بجلی کے بحران کو ڈیموں اور مقامی توانائی ذرائع کے ذریعے حل کرسکتی ہے، ایران جیسے ہمسائے سے سستا تیل و گیس خرید کر عوامی مشکلات کم کر سکتی ہے، تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان اور سیاحت جیسے شعبوں کو مضبوط کر کے ملک کی مجموعی ترقی کا راستہ کھول سکتی ہے، مگر ان تمام امکانات کے باوجود ایسا کبھی نہیں ہوتا۔

اس نہ ہونے کے عمل کے پیچھے اصل وجہ یہ نہیں کہ حکمران نااہل ہیں یا وسائل کم ہیں، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ریاستی ڈھانچہ بنیادی طور پر عوامی فلاح کے نظریے پر قائم ہی نہیں۔

یہ ڈھانچہ سیاسی معیشت، طاقت کے ارتکاز اور مفادات کے ایسے جال پر کھڑا ہے جہاں ریاست کا مقصد عوام کو ترقی دینا نہیں بلکہ انھیں ایسے مقام پر رکھنا ہے جہاں وہ زندہ تو رہیں مگر بااختیار نہ ہو جائیں۔

پاکستان کی سیاسی معیشت مخصوص اشرافیہ کا تسلط (Elite Capture) کے اصول پر چلتی ہے۔ طاقت، دولت، پالیسی اور اداروں کا کنٹرول چند طاقتور گروہوں کے پاس ہے، جن میں سیاسی اشرافیہ ، جاگیردار، بڑے صنعتی سرمایہ کار، غیر قانونی تجارتی گٹھ جوڑ Business Cartel اور مذہبی و سماجی اثر و رسوخ رکھنے والے طبقات شامل ہوتے ہیں۔

ان کے مفادات اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ عوام کے لیے کوئی بھی بنیادی سہولت چاہے وہ بجلی ہو یا پانی، تعلیم ہو یا صحت اس وقت تک دستیاب نہیں ہوتی جب تک یہ طاقتور گروہ خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔ بجلی مہنگی اس لیے نہیں کہ پیداوار ناممکن ہے، بلکہ اس لیے کہ توانائی کا پورا شعبہ ایسے مفادات کے گرد گھومتا ہے جن کے لیے بحران فائدہ مند اور حل خطرناک ہوتا ہے۔

ٹیکس کا نظام اس لیے غیر منصفانہ ہے کہ اسے عوام کے لیے نہیں بلکہ طاقتور طبقات اور ریاستی اداروں کے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اسی طرح زرعی اصلاحات نہ ہونے، زمین کی غیر منصفانہ تقسیم، درآمدی پالیسیوں کی بدعنوانی اور عوامی خدمات کے زوال کے پیچھے بھی یہی سیاسی معیشتی ڈھانچہ کام کرتا ہے۔

ریاستی سائنس کے لحاظ سے ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جس کے پاس قانون نافذ کرنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی کی شفافیت، عوامی قبولیت اور اداروں کی آزادی ہو۔

پاکستان میں یہ تمام عناصر کمزور ہیں، کیونکہ طاقت کئی مراکز میں بٹی ہوئی ہے اور کوئی بھی مرکز ایسا نہیں جس کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا ہو۔ فیصلے اکثر آئین یا عوامی فلاح کے تحت نہیں بلکہ اس بنیاد پرکیے جاتے ہیں کہ طاقت کا موجودہ توازن برقرار رہے۔

اسی لیے پالیسیوں میں تسلسل نہیں آتا، اصلاحات کبھی مکمل نہیں ہوتیں، ادارے مسلسل سیاسی، عسکری یا معاشی اثر و رسوخ میں دبے رہتے ہیں، اور عوام بنیادی حقوق کے لیے بھی لڑتے رہتے ہیں۔

ریاست (Extractive Model) کے تحت چلتی ہے، یعنی عوام سے ٹیکس، محنت اور معاشی قربانیاں لی جاتی ہیں، مگر بدلے میں انھیں نہ تحفظ ملتا ہے، نہ سہولت، نہ ترقی۔ سماجیاتی تجزیے کے مطابق پاکستان کا معاشرہ طبقاتی تقسیم، کمزور سیاسی شعور اور طاقت کے روایتی مراکز کے زیرِ اثر ہے۔

یہ تقسیم صرف معاشی نہیں بلکہ فکری اور ثقافتی بھی ہے۔ اشرافیہ پالیسی بناتی ہے اور متوسط طبقہ ان پالیسیوں کو اپنی بقا کے خوف یا امید میں قبول کرتا ہے، جب کہ محنت کش اور غریب طبقے ریاستی استحصال کا بوجھ برداشت کرتے رہتے ہیں۔

عوام کو دانستہ طور پر روزمرہ معاشی مشکلات میں الجھا دیا جاتا ہے تاکہ وہ بڑے ریاستی مسائل کو سمجھنے اور ان پر سوال اٹھانے کی صلاحیت کھو بیٹھیں۔ جب لوگ مہنگائی، روزگار، بجلی کے بل، اسکولوں کی فیس، یا صحت کے اخراجات میں پھنس جائیں تو انھیں اس بات پر غور کرنے کا موقع نہیں ملتا کہ یہ سارا بحران کیوں پیدا ہوتا ہے اور اسے کون چلاتا ہے۔

یہ پورا نظام عوام کو Survival Mode میں رکھتا ہے، جس میں انسان سوچتا کم اور جیتا زیادہ ہے۔اجتماعی نفسیات کے اعتبار سے ریاست طاقت کے دو بنیادی اصول استعمال کرتی ہے، خوف اور امید۔

عوام کو کبھی سیکیورٹی کے نام پر ڈرایا جاتا ہے، کبھی معاشی بحران کے نام پر، کبھی انتشار اور دشمن کے خوف میں رکھا جاتا ہے اور کبھی چھوٹی چھوٹی رعایتوں کے ذریعے انھیں امید کا دھوکا دیا جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی ماحول عوام کو مطیع رکھتا ہے، انھیں بڑے سوال پوچھنے سے روکتا ہے اور انھیں قلیل مدتی مسائل میں گم رکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب عوام اپنی محنت سے آگے بڑھنے لگتے ہیں تو ریاست انھیں ٹیکسوں، مہنگائی یا نئے انتظامی مسائل کے ذریعے واپس اسی مقام پر لے آتی ہے جہاں سے وہ نکلنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حکمرانی ماڈل میں ترقی کو عوامی حق کے بجائے ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

باشعور اور بااختیار عوام ریاستی طاقت کے توازن کو چیلنج کرتے ہیں، اسی لیے تعلیم بہتر نہیں ہوتی، تحقیق و ترقی کو مواقع نہیں ملتے، صحت اور روزگار کے شعبے مضبوط نہیں ہوتے، اور عام آدمی کو وہ سہولتیں نہیں ملتیں جو ایک آزاد شہری کا بنیادی حق ہوتی ہیں۔

یہ غلامی آج زنجیروں میں نظر نہیں آتی بلکہ معاشی ڈھانچوں، سماجی رویوں، کمزور اداروں، غلط ترجیحات اور طاقت کے ناموزوں توازن میں چھپی ہوئی ہے۔اگر کوئی قوم اس صورتحال کو بدل سکتی ہے تو وہ خود عوام ہیں، مگر تبدیلی اس وقت آتی ہے جب قوم اپنے مسائل کو صرف جذبات یا سیاست کی عینک سے نہیں بلکہ ایک اجتماعی حقیقت کے طور پر دیکھتی ہے۔

پاکستان کا مستقبل اسی وقت بدلے گا جب ریاست کی ترجیح طاقت کے تحفظ کے بجائے عوام کی بہتری ہوگی، اور یہ تبدیلی تبھی ممکن ہے جب عوام اپنے حقوق کو محض خواہش نہیں بلکہ مطالبہ بنا دیں۔ جو قوم حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر لے، وہ غلامی کی سب سے مضبوط زنجیر بھی توڑ سکتی ہے، خواہ وہ زنجیر نظر نہیں بھی آتی ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ ہیں بلکہ عوام کو جاتا ہے سکتی ہے طاقت کے ہے اور ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے

ویب ڈیسک :آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات میں دو روز باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف آج میرپور کے قائداعظم سٹیڈیم میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے، جلسے میں میاں نواز شریف کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی دیگر مرکزی و مقامی قیادت بھی شریک ہوگی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 قائداعظم سٹیڈیم میں جلسے کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں سٹیج کی تیاری سمیت دیگر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے میں کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے، جبکہ جلسے کے لیے مختلف علاقوں سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

واضح رہے کہ آزادکشمیر ڈویژن میں عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے، جس کے پیش نظر مختلف سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم تیز کیے ہوئے ہیں۔
 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار