Express News:
2026-07-24@07:36:20 GMT

زنجیریں

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

پاکستان کا معاشی و سیاسی بحران محض نااہلی یا وقتی ناکامیوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک گہری ریاستی، معاشی اور سماجی ساخت کا اظہار ہے جو دہائیوں سے عوام کو اپنے ہی ملک میں کمزور، محتاج اور بے اختیار رکھنے پر قائم ہے۔

یہ حقیقت بار بار ثابت ہوچکی ہے کہ اگر ریاست چاہے تو پانی کے نظام کو درست کر کے زراعت کو جدید خطوط پر استوارکرسکتی ہے۔

بجلی کے بحران کو ڈیموں اور مقامی توانائی ذرائع کے ذریعے حل کرسکتی ہے، ایران جیسے ہمسائے سے سستا تیل و گیس خرید کر عوامی مشکلات کم کر سکتی ہے، تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان اور سیاحت جیسے شعبوں کو مضبوط کر کے ملک کی مجموعی ترقی کا راستہ کھول سکتی ہے، مگر ان تمام امکانات کے باوجود ایسا کبھی نہیں ہوتا۔

اس نہ ہونے کے عمل کے پیچھے اصل وجہ یہ نہیں کہ حکمران نااہل ہیں یا وسائل کم ہیں، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ریاستی ڈھانچہ بنیادی طور پر عوامی فلاح کے نظریے پر قائم ہی نہیں۔

یہ ڈھانچہ سیاسی معیشت، طاقت کے ارتکاز اور مفادات کے ایسے جال پر کھڑا ہے جہاں ریاست کا مقصد عوام کو ترقی دینا نہیں بلکہ انھیں ایسے مقام پر رکھنا ہے جہاں وہ زندہ تو رہیں مگر بااختیار نہ ہو جائیں۔

پاکستان کی سیاسی معیشت مخصوص اشرافیہ کا تسلط (Elite Capture) کے اصول پر چلتی ہے۔ طاقت، دولت، پالیسی اور اداروں کا کنٹرول چند طاقتور گروہوں کے پاس ہے، جن میں سیاسی اشرافیہ ، جاگیردار، بڑے صنعتی سرمایہ کار، غیر قانونی تجارتی گٹھ جوڑ Business Cartel اور مذہبی و سماجی اثر و رسوخ رکھنے والے طبقات شامل ہوتے ہیں۔

ان کے مفادات اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ عوام کے لیے کوئی بھی بنیادی سہولت چاہے وہ بجلی ہو یا پانی، تعلیم ہو یا صحت اس وقت تک دستیاب نہیں ہوتی جب تک یہ طاقتور گروہ خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔ بجلی مہنگی اس لیے نہیں کہ پیداوار ناممکن ہے، بلکہ اس لیے کہ توانائی کا پورا شعبہ ایسے مفادات کے گرد گھومتا ہے جن کے لیے بحران فائدہ مند اور حل خطرناک ہوتا ہے۔

ٹیکس کا نظام اس لیے غیر منصفانہ ہے کہ اسے عوام کے لیے نہیں بلکہ طاقتور طبقات اور ریاستی اداروں کے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اسی طرح زرعی اصلاحات نہ ہونے، زمین کی غیر منصفانہ تقسیم، درآمدی پالیسیوں کی بدعنوانی اور عوامی خدمات کے زوال کے پیچھے بھی یہی سیاسی معیشتی ڈھانچہ کام کرتا ہے۔

ریاستی سائنس کے لحاظ سے ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جس کے پاس قانون نافذ کرنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی کی شفافیت، عوامی قبولیت اور اداروں کی آزادی ہو۔

پاکستان میں یہ تمام عناصر کمزور ہیں، کیونکہ طاقت کئی مراکز میں بٹی ہوئی ہے اور کوئی بھی مرکز ایسا نہیں جس کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا ہو۔ فیصلے اکثر آئین یا عوامی فلاح کے تحت نہیں بلکہ اس بنیاد پرکیے جاتے ہیں کہ طاقت کا موجودہ توازن برقرار رہے۔

اسی لیے پالیسیوں میں تسلسل نہیں آتا، اصلاحات کبھی مکمل نہیں ہوتیں، ادارے مسلسل سیاسی، عسکری یا معاشی اثر و رسوخ میں دبے رہتے ہیں، اور عوام بنیادی حقوق کے لیے بھی لڑتے رہتے ہیں۔

ریاست (Extractive Model) کے تحت چلتی ہے، یعنی عوام سے ٹیکس، محنت اور معاشی قربانیاں لی جاتی ہیں، مگر بدلے میں انھیں نہ تحفظ ملتا ہے، نہ سہولت، نہ ترقی۔ سماجیاتی تجزیے کے مطابق پاکستان کا معاشرہ طبقاتی تقسیم، کمزور سیاسی شعور اور طاقت کے روایتی مراکز کے زیرِ اثر ہے۔

یہ تقسیم صرف معاشی نہیں بلکہ فکری اور ثقافتی بھی ہے۔ اشرافیہ پالیسی بناتی ہے اور متوسط طبقہ ان پالیسیوں کو اپنی بقا کے خوف یا امید میں قبول کرتا ہے، جب کہ محنت کش اور غریب طبقے ریاستی استحصال کا بوجھ برداشت کرتے رہتے ہیں۔

عوام کو دانستہ طور پر روزمرہ معاشی مشکلات میں الجھا دیا جاتا ہے تاکہ وہ بڑے ریاستی مسائل کو سمجھنے اور ان پر سوال اٹھانے کی صلاحیت کھو بیٹھیں۔ جب لوگ مہنگائی، روزگار، بجلی کے بل، اسکولوں کی فیس، یا صحت کے اخراجات میں پھنس جائیں تو انھیں اس بات پر غور کرنے کا موقع نہیں ملتا کہ یہ سارا بحران کیوں پیدا ہوتا ہے اور اسے کون چلاتا ہے۔

یہ پورا نظام عوام کو Survival Mode میں رکھتا ہے، جس میں انسان سوچتا کم اور جیتا زیادہ ہے۔اجتماعی نفسیات کے اعتبار سے ریاست طاقت کے دو بنیادی اصول استعمال کرتی ہے، خوف اور امید۔

عوام کو کبھی سیکیورٹی کے نام پر ڈرایا جاتا ہے، کبھی معاشی بحران کے نام پر، کبھی انتشار اور دشمن کے خوف میں رکھا جاتا ہے اور کبھی چھوٹی چھوٹی رعایتوں کے ذریعے انھیں امید کا دھوکا دیا جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی ماحول عوام کو مطیع رکھتا ہے، انھیں بڑے سوال پوچھنے سے روکتا ہے اور انھیں قلیل مدتی مسائل میں گم رکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب عوام اپنی محنت سے آگے بڑھنے لگتے ہیں تو ریاست انھیں ٹیکسوں، مہنگائی یا نئے انتظامی مسائل کے ذریعے واپس اسی مقام پر لے آتی ہے جہاں سے وہ نکلنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حکمرانی ماڈل میں ترقی کو عوامی حق کے بجائے ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

باشعور اور بااختیار عوام ریاستی طاقت کے توازن کو چیلنج کرتے ہیں، اسی لیے تعلیم بہتر نہیں ہوتی، تحقیق و ترقی کو مواقع نہیں ملتے، صحت اور روزگار کے شعبے مضبوط نہیں ہوتے، اور عام آدمی کو وہ سہولتیں نہیں ملتیں جو ایک آزاد شہری کا بنیادی حق ہوتی ہیں۔

یہ غلامی آج زنجیروں میں نظر نہیں آتی بلکہ معاشی ڈھانچوں، سماجی رویوں، کمزور اداروں، غلط ترجیحات اور طاقت کے ناموزوں توازن میں چھپی ہوئی ہے۔اگر کوئی قوم اس صورتحال کو بدل سکتی ہے تو وہ خود عوام ہیں، مگر تبدیلی اس وقت آتی ہے جب قوم اپنے مسائل کو صرف جذبات یا سیاست کی عینک سے نہیں بلکہ ایک اجتماعی حقیقت کے طور پر دیکھتی ہے۔

پاکستان کا مستقبل اسی وقت بدلے گا جب ریاست کی ترجیح طاقت کے تحفظ کے بجائے عوام کی بہتری ہوگی، اور یہ تبدیلی تبھی ممکن ہے جب عوام اپنے حقوق کو محض خواہش نہیں بلکہ مطالبہ بنا دیں۔ جو قوم حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر لے، وہ غلامی کی سب سے مضبوط زنجیر بھی توڑ سکتی ہے، خواہ وہ زنجیر نظر نہیں بھی آتی ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ ہیں بلکہ عوام کو جاتا ہے سکتی ہے طاقت کے ہے اور ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار