data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران طالبان وفد نے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی اور غیر سنجیدہ بیانات اور الزام تراشی کے ذریعے ماحول خراب کیا۔ ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی میزبانی میں 7 نومبر کو استنبول میں مکمل ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان، دہشت گردی کے بنیادی مسئلے پر  پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے ترکیہ اور قطر کی مخلصانہ اور مثبت کوششوں کو سراہتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ 4 برسوں کے دوران، جب سے طالبان حکومت افغانستان میں برسرِ اقتدار آئی، افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان نے ان سالوں میں بے پناہ جانی نقصان اٹھانے کے باوجود حد درجہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور جوابی کارروائی سے گریز کیا۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان کو توقع تھی کہ وقت کے ساتھ طالبان حکومت اپنی سرزمین سے دہشت گرد حملوں پر قابو پائے گی اور ٹی ٹی پی / فتنہ الہند اور دیگر عناصر کے خلاف عملی اقدامات کرے گی۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ تجارتی، انسانی ہمدردی، تعلیمی اور طبی شعبوں میں تعاون کی راہیں کھولنے کی کوشش کی، مگر اس کے جواب میں افغان حکومت کی جانب سے صرف وعدے اور غیر سنجیدہ بیانات ملے۔ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا طالبان حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے، لیکن اس حوالے سے وہ عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات سے گریزاں ہیں  اور غیر متعلقہ موضوعات اٹھا کر اصل مسئلہ دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ اکتوبر 2025 میں پاکستان کا ردعمل اس عزم اور ارادے کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ٹی ٹی پی / فتنہ الہند اور بی ایل اے / فتنہ الاحرار پاکستان اور اس کے عوام کے کھلے دشمن ہیں، اور جو کوئی بھی ان کی پناہ، مدد یا مالی معاونت کرتا ہے، وہ پاکستان کا خیرخواہ نہیں۔ پاکستان امن اور سفارت کاری کا حامی ہے اور طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری آپشن سمجھتا ہے، ترکیہ اور قطر کی مخلصانہ تجاویز پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے امن مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ کیا۔دوحہ میں پہلے دور کے دوران فریقین کے درمیان بعض اصولی نکات پر اتفاق ہوا اور عارضی فائر بندی پر بھی رضا مندی ظاہر کی گئی، استنبول میں دوسرے دور میں ان نکات پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات ہونا تھی، لیکن طالبان وفد نے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی اور غیر سنجیدہ بیانات اور الزام تراشی کے ذریعے ماحول خراب کیا۔ دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ‘تیسرے دور میں بھی پاکستان نے مثبت اور تعمیری رویہ اپنایا اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے مؤثر نگرانی کے نظام پر زور دیا، لیکن افغان وفد نے غیر متعلقہ الزامات اور دعووں کے ذریعے بات چیت کو بے نتیجہ بنایا۔پاکستان باہمی اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کا حامی ہے، تاہم دہشت گردی کا مسئلہ اولین ترجیح کے طور پر حل ہونا چاہیے، پاکستان کی مسلح افواج اور عوام مل کر اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان نے اور غیر کی کوشش کے لیے

پڑھیں:

طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔

Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN

— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026

زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے

ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ