غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی تحریک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مزاحمتی محاذ، معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات کو تیار ہے لیکن قابض صیہونی رژیم اس معاملے سے مسلسل کترا رہی ہے اسلام ٹائمز۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان حازم قاسم نے تاکید کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کے اجراء میں "جنگ کے دوبارہ آغاز نہ ہونے" اور "غزہ سے اسرائیل کے مکمل انخلاء" کو فلسطینی عوام کے حقوق کے طور پر پیش نظر رکھا جانا چاہیئے۔ العربی الجدید اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے حازم قاسم نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کو جنگ بندی کی حمایت کرنی چاہیئے اور غزہ کے لئے مزید انسانی امداد بھیجنی چاہیئے تاہم غزہ کی پٹی کے اندرونی حالات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیئے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ فلسطینی مزاحمت کے نقطۂ نظر سے غزہ میں امن دستوں کا مشن یہ ہونا چاہیئے کہ وہ اس خطے پر کسی بھی نئے اسرائیلی حملے کو روکیں اور غزہ کے اندرونی معاملات میں اسرائیل کو کوئی کردار ادا نہ کرنے دیں۔ 

واضح رہے کہ اس وقت غزہ میں جنگبندی معاہدے کا پہلا مرحلہ تقریباً نافذ ہو چکا ہے جس میں اسرائیلی قیدیوں کے بدلے بڑی تعداد میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے جبکہ اب صرف 3 اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی حوالگی ہی باقی ہے۔ اس دوران اگرچہ حماس نے اپنے تمام وعدوں کو مکمل طور پر پورا کیا ہے لیکن قابض صیہونی رژیم، غزہ میں اب بھی نہ صرف ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ وہ غزہ کی پٹی میں خیموں اور پناہ گاہوں سمیت کسی بھی قسم کا رہائشی سامان بھی داخل نہیں ہونے دے رہی۔

ادھر گذشتہ 2 روز سے جاری موسم سرما کی بارشوں کے دوران، بے گھر فلسطینی خاندانوں کے خیموں کی ایک بڑی تعداد زیر آب آ گئی جس سے ان بے گھر خاندانوں کا جینا تک محال ہو کر رہ گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار