علامہ ڈاکٹر محمد اقبال صرف ایک شاعر نہیں بلکہ انقلابی مفکر تھے، اعزاز حسین
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251110-2-13
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلزپارٹی یوتھ ونگ ضلع حیدرآباد کے نائب صدر اعزاز حسین پنہور نے یوم اقبال کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک انقلابی مفکر تھے جنہوں نے نوجوانوں کے اندر خودی، حوصلے اور بیداری کی نئی روح پھونک کرنوجوانوں کے دلوں میں خودی اور عزم کی وہ شمع روشن کی جس نے پاکستان کے قیام کی بنیاد رکھی۔ ان کے افکار نے غلامی کے اندھیروں میں امید کی وہ کرن پیدا کی جس نے تحریکِ پاکستان کو جلا بخشی۔اعزاز حسین پنہور نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، آج کے نوجوان اگر اقبال کے پیغام کو سمجھ لیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔