اسرائیل جہاز بھربھر کے فلسطینیوں کو دوسرے ممالک بے دخل کرنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
بیجنگ (ویب ڈیسک)غزہ کے مستقبل کا تعین فلسطینیوں کو ہی کرنا چاہیے، چین،فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کی نئی چال بےنقاب ہو گئی۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل جہاز بھربھر کے فلسطینیوں کو دوسرے ممالک جبری بےدخل کرنے لگا ہے۔ اسرائیل فوجی اڈوں کے ذریعے فلسطینیوں کو طیاروں میں بٹھا کر دوسرے ممالک بھیجا گیا۔
نائیجریا جانے والے دو طیاروں کی جنوبی افریقا میں لینڈنگ ہوئی ہے جس کے بعد امیگریشن میں حقیقت کا پتہ چلا ہے۔ جنوبی افریقا میں چارٹرڈ طیارے کی لینڈنگ کے بعد 153 فلسطینیوں کو امیگریشن مسائل کا سامنا ہوا ہے۔
فلسطینیوں کے مطابق اسرائیلی فوجی اڈوں سے زبردستی چارٹرڈ طیاروں میں بٹھایا جاتا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق فلسطینیوں کے مطابق ہمیں سامان ساتھ لےجانےکی اجازت نہیں جب کہ جنوبی افریقا میں لینڈکرنےوالی چارٹرڈفلائٹ کینیاجارہی تھی۔
مقامی انسانی حقوق گروپ کے مطابق اب تک وہ 2طیاروں کے مسافروں کو سہولت دے چکے ہیں۔ اسرائیل سے پہلا طیارہ 176 فلسطینی لےکر 28اکتوبر کو آیا تھا اور دوسرے طیارے میں 153 فلسطینی موجود تھے۔
دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے برطانیہ کی جگہ امریکا کو غزہ میں کنٹرول اتھارٹی بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا۔الجزیرہ ٹی وی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں اسرائیلی تیار کردہ قرارداد پیش کر دی جس کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان مکمل ختم کرنا ہے۔
امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ میں دی گئی قرارداد کے 3 بڑے اقدامات سامنے آ گئے۔
قرارداد میں امریکا کو غزہ پٹی پر مکمل سیاسی کنٹرول دینے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ قرارداد میں غزہ کو باقی فلسطین سے مکمل طور پر الگ کرنے کا منصوبہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلسطینیوں کو کے مطابق
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔